موجودہ قسم شہادتین
سبق: نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے متعلق جانكاری
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كانام
اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہر جنس و نسل والے تمام لوگوں کی طرف بھیجا ، اور تمام لوگوں پر آپ کی اطاعت کو واجب قرار دیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:(آپ لوگوں سے یہ فرما دیجئے کہ اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں) (الأعراف:١٥٨)_
اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر تمام عظیم الشان کتابوں میں سے قرآن کو نازل فرمایا جس کے آگے پیچھے کہیں سے باطل پھٹک نہیں سکتا
اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء بنا کر بھیجا، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں،جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:"لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں"،_ (احزاب:٤٠)
١-آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت
نبوت سے پہلے چالیس سال تک اپ اپنے قبیلہ قریش میں رہے (٥٧١_٦١١ ء) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بیچ اخلاق کے اعلی نمونہ تھے اور استقامت و تميز میں ضرب المثال تھے، اور آپ ان میں صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے، آپ بکریاں چراتے تھے اور تجارت کرتے تھے،اور آمد اسلام سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم حنیفیت کے دین پر قائم تھے، اور ملت ابراہیم پر قائم رہتے ہوئے اللہ تعالی کی عبادت کرتے تھے ، اور بتوں کی عبادت کا انکار کرتے، اور بت پرستی سے دور رہتے_
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی عمر مكمل چالیس سال كی ہوگئی ،اس وقت آپ غور خوض میں لگے رہتے اور جبل نور پر واقع غار حراء میں اللہ كی عبادت میں مشغول رہتے، اسی وقت اللہ كی طرف سے آپ پر وحی نازل ہوئی ،اور آپ پر قرآن كا نزول شروع ہوگیا ،اور پہلی بار آپ پر جو قرآن كا حصہ نازل ہواوہ اللہ تعالی كا یہ فرمان ہے:(اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ) (العلق:1) (پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا )تاكہ آپ لوگوں میں یہ اعلان كردیں كہ یہ بعثت اپنی آغاز ہی سے علم ، پڑھائی ، اور روشنی و تمام لوگوں كی ہدایت كا نیا دور ہے ، پھر آپ پر تیئس (23) سال تك لگاتار قرآن نازل ہوتا رہا۔
4-آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی دعوت كی ابتداء
5-آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی ہجرت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت كے بعد (622م) میں مدینہ میں اسلامی تہذیب و تمدن كی بنیاد ڈالی ،اورمسلم معاشرے كے معالم كی جڑوں كو مضبوط كیا ،قبائل كی جاہلی عصبیت كو ختم كیا ،علم كی اشاعت كی ، عدل و استقامت، بھائی چارہ اور احسان و تقوی پر تعاون كرنے كی بنیادوں كو مستحكم كیا،بعض قبائل نے اسلام كو مٹانے كی كوشش كی ،اس كے نتیجہ میں متعدد جنگیں اور لڑائیاں ہوئیں،اللہ نے اپنے دین و رسول كو غالب كیا ،پھر لوگ لگاتار اسلام میں داخل ہونے لگے ، تو مكہ میں بھی اسلام داخل ہوگیا ، اور اس جزیرہ عرب كے قبائل اور بیشتر شہر اس دین عظیم كو پسند كرتے اور اپنی رضا مندی سے اسلام میں داخل ہوگئے ۔
ماہ صفر سن 11 ہجری میں جب رسول اللہ نے پیغام الہی كو لوگوں تك پہونچادیا ، امانت ادا كردی ، اور دین كی تكمیل فرما كرلوگوں پر اپنی نعمت مكمل كردی ،بعدہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو بخار كی شكایت ہوئی ،بیماری آپ پر بوجھ بن گئی ،یہاں تك كہ آپ بروز پیر ربیع الاول كی 12 تاریخ سن 11ہجری موافق( 8/6/632م)كو وفات پا گئے ،اس وقت آپ كی عمر 63 سال پوری ہو چكی تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو مسجد نبوی كے ایك سمت عاشہ رضی اللہ عنہا كے كے حجرہ مباركہ میں دفن كیا گیا ۔