موجودہ قسم نماز
سبق: مستحب نمازیں
اور اسی وجہ سے اس كانا ركھا گیا ہے كیونكہ یہ فرائض سے چمٹی اور جڑی ہوتی ہے ، اور اس لئے بھی كہ مسلمان آدمی اس پر ہمیشگی كرتاہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ما من عبد مسلم يصلي لله كل يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعاً غير فريضة إلا بنى الله له بيتاً في الجنة" (مسلم 728). (کوئی بندہ مسلمان ایسا نہیں کہ اللہ کے واسطے ہر دن میں بارہ رکعت خوشی سے پڑھے سوائے فرض کے مگر اللہ تعالی اس کے واسطے ایک گھر جنت میں بناتا ہے یا فرمایا اس کے لیے ایک گھر جنت میں بنایا جاتا ہے)
سنن رواتب
اس كا نام اسی وجہ سے ركھا گیا ہے كونكہ اس كی ركعتوں كی تعداد فردی ہے ، اور یہ افضل نوافل میں سے ہے، اللہ كےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أوتروا يا أهل القرآن" (الترمذي 453، ابن ماجه 1170). (صحیح)( لہٰذا اے قرآن والو! وتر پڑھا کرو)
اور اس كا افضل وقت رات كا آخری حصہ ہے ،اور ایك مسلمان اسے نماز عشاء كے بعد سے لیكر طلوع فجر تك كبھی بھي پڑھ سكتاہے
وتر كی ركعتوں كی تعداد
اقل كمال نماز وتر میں تین ركعت پڑھنا ہے ،تو ایك مسلمان پہلے دو ركعت پڑھ كر سلام پھیر دے ، پھر ایك ركعت پڑھے اور سلام پھيرے ،اور آخری ركعت میں -ركوع سے پہلے یا بعد میں- اپنے دونوں ہاتھوں كو اپنے سینے كے مقابل اٹھائے اور دعائے قنوت پڑھے ، یہ مشروع ہے
جب زمین سوكھ جائے ، اور كم بارش كے سبب لوگوں كو نقصان پہوںچے تو ایسی حالت میں اللہ نے نماز استسقاء كو مشروع كیا ہے ،اور اگر ممكن ہو تو یہ نماز كسی بڑے میدان یا خالی جگہوں میں ادا كی جائے ،اور مسجد میں پڑھنا جائز ہے
مشروع یہ ہے كہ نمازی اللہ سے عاجزی كرتے ہوئے ، لرزتے ہوئے ، اور توبہ كرتے ہوئے نكلیں ، اور وہ اسباب اختیار كریں جو رحمت الہی كو كھینچ لائے ، جیسے استغفار كرنا ، مظالم كے واپس كرنا ، صدقہ دینا ، لوگوں پر احسان كرنا وغیرہ
نماز استسقاء كی كیفیت
یہ نماز مسلمان كے لئے مشروع كی گئی ہے جب وہ كسی جائز چیز كا ارادہ كرے اور اسے یہ معلوم نہ ہو كہ اس كےلئے اس میں خیر ہے كہ نہیں ۔
نماز استخارہ كی مشروعیت
یہ مستحب نمازوں میں سے ہے ، جس كی فضیلت میں اجر عظیم كا ذكرہے ،اسكی كم سے كم دوركعت ہے ،اس كا وقت شروق كے بعد سورج كے ایك نیزے كے برابر چڑھنے شروع ہوتا ہے اور زوال شمس سے كچھ پہلے اور ظہر كے وقت كے داخل ہونے تك رہتا ہے ۔
سورج گہن یہ ایك غیر عادی كائنات كی حالت ہے جس میں سورج یا چاند كی مكمل طور پر یا جزئی طور پر روشنی چھپ جاتی ہے ،اور یہ اللہ كی نشانیوں میں سے ایك نشانی ہے جو اللہ كی قدرت اوراس كی بادشاہت كو بتاتی ہے ،انسان كو آگاہ كرتی ہے اور اسے غفلت سے بیدار كرتی ہے ، تاكہ وہ اللہ كے عذاب سے ڈرے اور اس كے ثواب كی امیدیں باندھے ۔
اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الشمس والقمر لا ينكسفان لموت أحد من الناس ولكنهما آيتان من آيات الله فإذا رأيتموهما فقوموا فصلوا" (البخاري 1041).(سورج اور چاند میں گرہن کسی شخص کی موت سے نہیں لگتا۔ یہ دونوں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اس لیے اسے دیکھتے ہی کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو۔)