موجودہ قسم مسلم فیملی (مسلم خاندان )
سبق: دو جنسوں كے درمیان تعلقات كے اصول و ضوابط
مختلف شعبوں میں لوگوں كے امور كو منظم كرنے میں شریعت اسلامیہ نے پوری توجہ دی ہے ، اور اسی پہلو سے مرد و خواتین كے درمیان سلوك و برتاؤ كا ہے ، اللہ عز وجل نے نرو مادہ كو ایسی كشش پر پیدا كی ہے جس میں ہر ایك دوسرے سے دل كشی ركھتے ہیں ،اور اسی دل كشی كا نتیجہ قابل تعریف اور جائز نكاح ہے ، اور اس كے علاوہ شدید ترین فتنوں میں سے شرو فتنہ كا دروازہ بنے گا ، جیسا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ما تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أضَرَّ علَى الرِّجالِ مِنَ النِّساءِ" (البخاري 5096، ومسلم 2741).(میں نے اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں کے فتنہ سے بڑھ کر نقصان دینے والا اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا ہے)۔
سب سے خطرناک چیز جو مرد اور عورت کے درمیان تعلق کا باعث بن سکتی ہے وہ زنا میں واقع ہونا ہے، شریعت مطہرہ نے صرف اس فحش كی ممانعت پر اكتفا نہ كیا بلكہ اس كے قریب جانے اور اس كی پیش قدمیوں سےاور ان تمام چیزوں سے جو وہاں تك لے جانے والے ہوں ان سے بھی خبردار كیا ۔جیساكہ اللہ تعالی كا ارشاد ہے :{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلً} [الإسراء: 32]،( خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وه بڑی بےحیائی ہے اور بہت ہی بری راه ہے)اور نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «العينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليد زناها البطش، والرِّجل زناها الخطا، والقلب يهوى ويتمنى، ويصدق ذلك الفرج ويكذبه» (البخاري 6243، ومسلم 2،657 واللفظ له).(تو آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے، زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا اور چھونا ہے اور پاؤں کا زنا جانا ہے (فاحشہ کی طرف) اور دل کا زنا خواہش اور تمنا ہے اور شرمگاہ ان باتوں کو سچ کرتی ہے یا جھوٹ)۔
پاکیزہ شریعت حریص ہے کسی بھی انحراف یا غلطی سے بچنے کے لیے جو تباہ کن نتائج کا باعث ہو ، عورتوں كے ساتھ مردوں كے سلوك و برتاؤ كے متعلق شریعت نے ایسے متعدد ضوابط وضع كیا ہے جس كی ہمیشہ ضرورت محسوس ہوتی ہے ، جیسے جائز لین دین میں بیع و شراء وغیرہ ، یا جس چیز كی ضرورت محسوس ہو، جیسے لیڈی ڈاكٹر نہ ہونے كی صورت میں عورتوں كا جینس ڈاكٹروں كے پاس بغرض علاج جانا ، اور انہیں ضوابط و اصول میں سے ہے :
نگاہ نیچی ركھنا
چھونے یا مصافحہ سے اجتناب كرنا۔
مطلق خلوت سے اجتناب كرنا
وہاں مسلم خاتون كے لئے خاص ضابطہ ہے ، مردوں كے ساتھ تعامل كی ضرورت محسوس ہونے پر عورت پر ان ضوابط كی پایندی كرنا واجب ہے ۔
مسلمان خاتون كے لئے شرعی لباس كے ضابطے كا التزام كرنا اولا اللہ كے حكم پر عمل كرتے ہوئے واجب ہے ، پھر مرد حضرات كو اس كے احترام كرنے اور اسے فعل یا كلام یا نگاہ سے ایذا نہ پہوچانے پر مجبور كیا جائے گا، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: 31]،( اور مومن عورتوں سے کہہ دے اپنی کچھ نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں) اور ایك دوسری جگہ اللہ سبحانہ تعالی نے فرمایا: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا} [الأحزاب: 59].(اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے)