موجودہ قسم زكاۃ
سبق: وہ مال جن میں زكاۃ واجب ہے
وہ كون سے اموال ہیں جن میں زكاۃ واجب ہے ؟
اللہ نے مال كی ان قسموں میں زكاۃ واجب كی ہے جن میں نمو و بڑھوتری كی فطرت ہے ، اور وہ یہ ہیں :
ان دونوں میں اس وقت تك زكاۃ واجب نہیں جب تك كہ یہ شرعی نصاب كو نہ پہنچ جائیں ، اور اس پر ایك ہجری والا ایك سال نہ گذر جائے، اور اس كی مقدار 354 دن ہے ۔
سونے اور چاندی میں زكاۃ كا نصاب حسب ذیل ہے :
-
اور كیش مال ان تمام مختلف قسم كی كرنسیوں كو شامل ہے چاہے وہ آپ كے ہاتھ میں ہوں یا پھر بینك میں بیلینس كی شكل میں ہوں
مسلمان مال و كرنسی كی زكاۃ كانصاب شمار كرے گا۔ جو سونے كی قیمت كے مقابل ہوں گے ، اگر اس كے پاس اتنا مال ہے جو سونے كی نصاب تقریبا 85 گرام كے برابریا اس سے زیادہ ہے اور وہ زكاۃ كے وقت میں ہے ،اور اس كی ملكیت میں اس پر ایك سال گذر گیا ہے تو اس میں سے ڈھائی فیصد (2.5%) كے اعتبار سے اس مال كی قیمت سے زكاۃ ادا كرے گا۔
مال میں زكاۃ كے نصاب كے حساب كی مثال:
اور اس سے مراد جو بنیادی طور پر تجارت كے لئے تیار كیا گیا ہو جیسے ریل اسٹیٹ ، بلڈنگس ،یا سامان تجارت جیسے غذائی سامان، صرف والی چیزیں
سامان تجارت میں زكاۃ نكالنے كی كیفیت
اللہ تعالی نے فرمایا:(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْض) (البقرة: 267).( اور ان میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالی ہیں )
زمین كی پیداوار میں سے محدود قسموں میں زكاۃ واجب ہے ،اور تمام فصلوں میں نہیں ، اس كے لئے شرط ہے كہ وہ شریعت كے متعین كردہ مقداركو پہنچ جائے
اور جو بارش اور ندیوں سے سیراب كیا گیا ہے اس كے درمیان اور جو خرچے سے سیراب كیا گیا ہے ان دونوں میں فرق كیا جائے گا ، لوگوں كے احوال كی رعایت كرتے ہوئے زكاۃ میں سے واجب مقدار پر عمل ہوگا۔
كھیتی كی پیداوار اور پھلوں میں زكاۃ كے وجوب كی شرطیں
1-جب پیداوار نصاب كو پہنچ جائے
2-ان اصناف كی پیداوار میں سے ہو جن میں زكاۃ واجب ہے ۔
3- جب فصل كاٹ لی جائے
اور جانوروں كے مال سے مقصود وہ چوپائے ہیں جس سے انسان فائدہ اٹھاتا ہے ، اوربالخصوص وہ اونٹ ، گائے ، اور بكری ہے،
اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر احسان كرتے ہوئے ان چوپایوں كو پیدا فرمایا تاكہ لوگ ان كے گوشت كھائیں ، ان كے اون سے بنے كپڑے پہنیں ، ان پر سوار ہوں اورسفر و كوچ كے دوران ان پر اپنا سامان لادیں ،اللہ تعالی نے فرمایا: (وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ • وَلَكُمْ فِيهَا جَمَالٌ حِينَ تُرِيحُونَ وَحِينَ تَسْرَحُونَ • وَتَحْمِلُ أَثْقَالَكُمْ إِلَى بَلَدٍ لَمْ تَكُونُوا بَالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ إِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ) (النحل: 5-7).(اسی نے چوپائے پیدا کیے جن میں تمہارے لیے گرمی کے لباس ہیں اور بھی بہت سے نفع ہیں اور بعض تمہارے کھانے کے کام آتے ہیں [5] اور ان میں تمہاری رونق بھی ہے جب چرا کر ﻻؤ تب بھی اور جب چرانے لے جاؤ تب بھی [6] اور وه تمہارے بوجھ ان شہروں تک اٹھالے جاتے ہیں جہاں تم بغیر آدھی جان کیے پہنچ ہی نہیں سکتے تھے۔ یقیناً تمہارا رب بڑا ہی شفیق اور نہایت مہربان ہے)