موجودہ قسم روزہ
سبق: عید الفظر و عیدالاضحی
عید الفطر
عیدالفطر كے دن كیا مشروع ہے ؟
عید كےدن اور اس كی رات میں جو شخص اپنی ضرورت سے زیادہ كھانے كامالك ہو تو اللہ نے اس پر واجب كیا ہے كہ ایك صاع اپنے شہر كے كھانے میں سے چاول یا گیہوں یاكھجور مسلمان مساكین و فقراء كے لئے نكالے ،یہاں تك كہ عید كے دن كوئی محتاج نہ بچے۔
رمضان كے آخری دن مغرب سے لیكر نماز عید تك ، اور عید سے ایك یا دو دن پہلے ادا كرنا جائز ہے۔
اہل شہر كے خوراك میں سے ایك صاع گیہوں یا چاول یا كھجور وغیرہ ، اور صاع یہ ناپنے كا پیمانہ ہے ،لیكن وزن سے اس كا اندازہ كرنا موجودہ دور كے پیمانوں میں ٹھیك اترنے كے لئے آسان ہے ، اور ایك صاع وزن كے اعتبار سے تقریباتین كلو گرام ہوتا ہے۔
عید كے دن اپنی ضرورت سے زیادہ كھانا ركھنے والوں پر واجب ہے كہ وہ اپنی اور جن كا نفقہ ان پر لازم ہے جیسے بیوی و اولاد ان كی طرف سے صدقہ فطر نكالیں ،اور ماں كے پیٹ میں رہنے والے بچے كی جانب سے نكالنا مستحب ہے ،تو ہر ایك كی جانب سے اپنے كھانے میں سے تین تین كلو نكالے گا
صدقہ فطر كی حكمت
عیدالاضحی مسلمانوں كی دوسری عید ہے ،جو ماہ ذی الحجہ كے دسویں دن ہوتی ہے ،(ماہ ذی الحجہ اسلامی كلینڈر كا بارہواں مہینہ ہے ) اور اس میں بہت سی فضیلتیں جمع كی گئی ہیں ، انہیں میں سے چند یہ ہیں :
1-وه سال كى سب سے افضل ایام ہیں
اس میں حج كے عظیم ، اہم اور اشرف افعال ہیں ، جیسے طواف كعبہ ، قربانی كا ذبح كرنا ، جمرہ عقبہ پر پتھر مارنا
عیدالاضحی كے دن كون سی چیزیں مشروع ہیں ؟
وہ عمل یہ ہیں جو اونٹ ، گائے ، یا بكرے نماز عید كے بعد عیدالاضحی كے دن اللہ كی قربت حاصل كرنے كےلئے ذبح كیے جاتےہیں ،اور یہ عمل ذی الحجہ كی تیرہ تاریخ كے دن مغرب تك جاری رہتا ہے ، اللہ تعالی كا ارشاد ہے : (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) (الكوثر: 2)(آپ اپنے رب كے لئے نماز پڑھیں اور قربانی كریں)اور اس كی تفسیر نمازعید اور قربانی سے كی گئی ہے ۔
اس كا حكم
جو قربانی دینا چاہے اس كے لئے مشروع ہے كہ وہ ماہ ذی الحجہ كے پہلے دن سے قربانی كا جانور ذبح كرنے تك نہ اپنا بال اور ناخن اور نہ اپنا چمڑہ كاٹے ۔
قربانی دئے جانے والے جانور كی شرطیں
بكری ، یا گآئے یا اونٹ ہیں ،ان كے علاوہ دوسرے جانوروں یا پرندوں كی قربانی جائز نہیں ،بكری یا بھیڑ یہ آدمی كی اور اس كے گھروالوں كی طرف سے كافی ہے ، یا ایك گائے اور ایك اونٹ میں سات آدمی كا شریك ہونا جائزہے۔