موجودہ قسم دورے اور سفر كے احكامات
سبق: اسفار اور پاكی
انسان كے حالت اقامت میں اور اس كے پاس موجود بہت ساری چیزوں میں اس وقت بڑی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے جب وہ سفر میں ہوتا ہے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر چکے تو فوراً گھر واپس آ جائے۔(البخاري 1804 ،3001، 5429)، ومسلم (1927)) سفر پر جانے والوں كے لئے یہ ضروری ہے كہ وہ طہارت كے مسائل كے بعض امور كو اچھی طرح سمجھ لے ،اور انہیں مسائل میں سے چںد یہ ہیں
وہ جگہیں جہاں عموما لوگ سایہ حاصل كرتے ہوں یا درخت كے نیچے ، یا وہ جگہ جو بیٹھنے كے لئے تیار كیا گیا ہو وہاں پاخانہ كرنا اور اسے گندہ كرنا حرام ہے
علماء نے یہ بیان كیا ہے كہ جب كھلا میدان ہو اور كوئی قضائے حاجت كرنا چاہتا ہو تواس كےلئے نرم جگہ ڈھونڈنا چائیے تاكہ وہ پیشاب كے لگنے سے مامون ہو جائے یہاں تك كہ اس كے پیشاب كی چھیٹیں اس كی طرف پلٹ كر نہ آیئں ،سخت زمین سے دوری بنائیں ،اورایسے ہی ہواوں كی جگہوں سے بھی دور رہیں
قضائے حاجت كے وقت پردہ كرنا
عبداللہ بن جعفر كی حدیث میں ہے وہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كا ذكر كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت کے وقت ٹیلے کی یا کھجور کے درختوں کی آڑ پسند تھی۔ (تاکہ ستر کو کوئی نہ دیکھے)۔(مسلم 342)اور ایك دوسری حدیث میں یوں آیا ہے "كان إذا أراد حاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض" (أبو داود 14)،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا (شرمگاہ سے اس وقت تک) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے (صحیح) اس لئے كہ اسی میں پردہ پوشی ہے
نماز كی ادائیگی كے لئے تیمم پاكی حاصل كرنے كی قسموں میں سے ایك قسم ہے ،اور یہ پانی موجود نہ ہونے كی شكل میں ، یا پانی استعمال كرنے قدرت نہ پانے كی صورت میں ہے ،اور اس كا طریقہ یہ ہے كہ مسلمان اپنے دونوں ہاتھوں كو زمین كی مٹی پر مارے ، پھر ان دونوں كے ذریعہ اپنے چہرے پر پھیرے ،پھر اپنے بائیں سے داہنے ہاتھ كی ہتھیلی پر پھیرے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ كی ہتھیلی پر پھیرے،
دونوں موزوں پر مسح كرنا:اور وہ اس طرح كی جب وہ چمڑے كا موزہ پہنے ہو (چمڑے كا وہ جوتا جو دونوں قدموں كو ڈھانپے ہو) یا وہ اولن كا موزہ پہنے ہو ،یا اسی جیسے نائلوں وغیرہ كا بنا ہواجو پورے قدم كو ڈھانپے ہو ،اور وہ حدث اكبر و حدث اصغر دونوں سے كامل طہارت حاصل كرنے كے بعد پہنے ہوں ،اس لئے جب وضو كرے تو اپنے سر كا مسح كرے تو دونوں پیروں كے دھونے كے لئے دونوں موزوں كا نكالنا اس پر لازم نیہں ،بلكہ دونوں موزوں كے اوپر اپنے دونوں پیروں كے ظاہری حصے پر مسح كرے گا