تعلیم كو فالو اپ كریں

اب تك آپ نے انڑی كے لئے رجسٹریشن نہیں كیا
اپنی ترقی كے فالواپ كے لئے اور پوائنٹس اكٹھا كرنے كے لئے ،اور مسابقے میں شركت كے لئے منصہ تاء میں فورا رجسٹریشن كریں ،رجسٹرد ہونے كے بعد جن موضوعات كی آپ تعلیم حاصل كررہے ہیں آپ اس كی الكڑانك سرٹیفیكیٹ حاصل كریں گے

موجودہ قسم دورے اور سفر كے احكامات

سبق: اسفار اور پاكی

سفر اور رحلات كے دوران ایك مسلمان كو پاكی كے مسائل درپیش ہوتے ہیں ،آپ اس سبق میں سفر و رحلات میں پاكی و طہارت كے بعض مسائل كا علم حاصل كریں گے

سفر و رحلات كے دوران طہارت كے احكام كی جانكاری

انسان كے حالت اقامت میں اور اس كے پاس موجود بہت ساری چیزوں میں اس وقت بڑی تبدیلی رونما ہو جاتی ہے جب وہ سفر میں ہوتا ہے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کو کھانے پینے اور سونے (ہر ایک چیز) سے روک دیتا ہے، اس لیے جب کوئی اپنی ضرورت پوری کر چکے تو فوراً گھر واپس آ جائے۔(البخاري 1804 ،3001، 5429)، ومسلم (1927)) سفر پر جانے والوں كے لئے یہ ضروری ہے كہ وہ طہارت كے مسائل كے بعض امور كو اچھی طرح سمجھ لے ،اور انہیں مسائل میں سے چںد یہ ہیں

قضائے حاجت كے لئے ان جگہوں كا انتخاب كرنا جو اس كےلئے مخصوص ہیں

وہ جگہیں جہاں عموما لوگ سایہ حاصل كرتے ہوں یا درخت كے نیچے ، یا وہ جگہ جو بیٹھنے كے لئے تیار كیا گیا ہو وہاں پاخانہ كرنا اور اسے گندہ كرنا حرام ہے

علماء نے یہ بیان كیا ہے كہ جب كھلا میدان ہو اور كوئی قضائے حاجت كرنا چاہتا ہو تواس كےلئے نرم جگہ ڈھونڈنا چائیے تاكہ وہ پیشاب كے لگنے سے مامون ہو جائے یہاں تك كہ اس كے پیشاب كی چھیٹیں اس كی طرف پلٹ كر نہ آیئں ،سخت زمین سے دوری بنائیں ،اورایسے ہی ہواوں كی جگہوں سے بھی دور رہیں

قضائے حاجت كے وقت پردہ كرنا

قضائے حاجت كے كی حالت میں لوگوں سے پردہ كرنا واجب ہے ،یا تو كوئی آڑ یا لوگوں كی نگاہوں سے دور چلا جائے ،جیسا كہ مغیرۃ بن شعبہ رضی اللہ عنہ كی حدیث میں ہے وہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر (غزوہ تبوک) میں تھا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا۔ مغیرہ! پانی کی چھاگل اٹھا لے۔ میں نے اسے اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور میری نظروں سے چھپ گئے۔ آپ نے قضائے حاجت کی۔ (البخاري 363، ومسلم 274)اور ایك دوسری روایت میں یوں ہے "وكان إذا أتى حاجته أبعد" (مسند الإمام أحمد 15660).(جب آپ قضائے حاجت كے لئے جاتے تو دور نكل جاتے)

عبداللہ بن جعفر كی حدیث میں ہے وہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم كا ذكر كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاجت کے وقت ٹیلے کی یا کھجور کے درختوں کی آڑ پسند تھی۔ (تاکہ ستر کو کوئی نہ دیکھے)۔(مسلم 342)اور ایك دوسری حدیث میں یوں آیا ہے "كان إذا أراد حاجة لا يرفع ثوبه حتى يدنو من الأرض" (أبو داود 14)،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا (شرمگاہ سے اس وقت تک) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے (صحیح) اس لئے كہ اسی میں پردہ پوشی ہے

تیمم

نماز كی ادائیگی كے لئے تیمم پاكی حاصل كرنے كی قسموں میں سے ایك قسم ہے ،اور یہ پانی موجود نہ ہونے كی شكل میں ، یا پانی استعمال كرنے قدرت نہ پانے كی صورت میں ہے ،اور اس كا طریقہ یہ ہے كہ مسلمان اپنے دونوں ہاتھوں كو زمین كی مٹی پر مارے ، پھر ان دونوں كے ذریعہ اپنے چہرے پر پھیرے ،پھر اپنے بائیں سے داہنے ہاتھ كی ہتھیلی پر پھیرے ، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ كی ہتھیلی پر پھیرے،

مقیم ہونے كی صورت سے زیادہ حالت سفر میں ایك مسلمان كو تیمم كی حاجت ہوتی ہے ،اور اس وجہ سے كہ اس كے لئے بہت سے جائز اسباب ہوتے ہیں ، مثلا كامل طور سے پانی كا نہ پایا جانا،یا تھوڑا ہوتے ہوئے اس كے پینے كی حاجت كا ہونا ،یا دیگر صورت

یا پانی س وضو كرنے میں شدید دشواری كا پایا جانا،چاہے وہ سخت ٹھنڈی كی وجہ سے ہو یا پھربیماری كی وجہ سے ،اور ایسا دوران سفر زیادہ واقع ہوتا ہے ،اور ٹھنڈ سے مراد ہے جو انسان كے لئے باعث مشقت ہو، اس طور سے كہ اس بیماری آ جائے یا تكلیف بڑھ جائے ، لیكن نارمل ٹھنڈ سبب تسلیم نہیں كیا جائے گا

اور یہ اس وقت جائز ہے جبكہ وہاں قریب میں پانی نہ ہو جسے لایا جا سكے اگر وہ مفقود ہے یا یہ كہ اس كا گرم كرنا ممكن نہ ہو اگر وہ ٹھنڈا ہے

چمڑے كے دونوں موزوں پر مسح كرنا

دونوں موزوں پر مسح كرنا:اور وہ اس طرح كی جب وہ چمڑے كا موزہ پہنے ہو (چمڑے كا وہ جوتا جو دونوں قدموں كو ڈھانپے ہو) یا وہ اولن كا موزہ پہنے ہو ،یا اسی جیسے نائلوں وغیرہ كا بنا ہواجو پورے قدم كو ڈھانپے ہو ،اور وہ حدث اكبر و حدث اصغر دونوں سے كامل طہارت حاصل كرنے كے بعد پہنے ہوں ،اس لئے جب وضو كرے تو اپنے سر كا مسح كرے تو دونوں پیروں كے دھونے كے لئے دونوں موزوں كا نكالنا اس پر لازم نیہں ،بلكہ دونوں موزوں كے اوپر اپنے دونوں پیروں كے ظاہری حصے پر مسح كرے گا

دونوں موزوں پر مسح كے صحیح ہونے كے لئے یہ شرط ہے كہ وہ دونوں پاك ہوں ،اور دونوں پیروں كو چھپانے والے ہوں ،اور آدمی اسے كامل وضو كے بعد پہنا ہو جس میں كہ اس نے اپنے دونوں پیروں كے دھویا تھا ،اور اس كے لئے ان دونوں پر مسح كرنا _جبكہ وہ لگاتار ان دونوں كو پہنے رہے_اگر مقیم ہے تو ایك دن اور ایك رات كی مدت تك جائز ہے ،اور اگر مسافر ہے تو تین دن اور اس كی تین راتیوں تك كی مدت تك ان دونوں پر مسح كرنا جائز ہے

مدت مسح كے ختم ہونے كے بعد اگر وہ وضو كرنے كا ارادہ كرے تو اس پر دونوں موزوں كا نكالنا واجب ہے ،یا اس وقت جب اس پر غسل واجب ہو جائے_جنابت وغیرہ كی وجہ سے _یا اس نے ان دونوں كو كامل طہارت پر نہ پہنا ہو،تو وہ دونوں پیروں كو دھونے كے ساتھ ساتھ كامل طہارت حاصل كرے

كامیابی سے آپ نے درس مكمل كیا


امتحان شروع كریں