تعلیم كو فالو اپ كریں

اب تك آپ نے انڑی كے لئے رجسٹریشن نہیں كیا
اپنی ترقی كے فالواپ كے لئے اور پوائنٹس اكٹھا كرنے كے لئے ،اور مسابقے میں شركت كے لئے منصہ تاء میں فورا رجسٹریشن كریں ،رجسٹرد ہونے كے بعد جن موضوعات كی آپ تعلیم حاصل كررہے ہیں آپ اس كی الكڑانك سرٹیفیكیٹ حاصل كریں گے

موجودہ قسم موت و جنازہ

سبق: میت كی تعزیت كرنا اور اس پر سوگ منانا

تعزیت ، اور میت پر غم اور قبر كی زیارت كے لئے كچھ احكام و آداب ہیں جن كا خیال كرنا ایك مسلمان كے لئے مناسب ہے ،اور آپ اس درس میں انہیں كے متعلق بعض معلومات حاصل كریں گے

تعزیت اور زیارت قبر كے آداب و احكام كی جانكاری۔

تعزیت

اہل میت كی تعزیت كرنا ،اس كے رشتہ داروں كو تسلی دینا ، اور ان پر آئی ہوئی مصیبت پراچھی باتوں سے انہیں تقویت دینا ،اور اس میں میت كو دعا دینا ،اور اس كے رشتہ داروں كو ثابت رہے اور صبر كرنے كی تلقین كرنا ، اور اللہ كے نزدیك اس پرانہیں اجر پانے كو یاد دلانا یہ سب مستحب ہے ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی زینب كی تعزیت ان كے بیٹوں میں كی اور كہا: «إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ، وَلْتَحْتَسِبْ» (البخاري 1284، مسلم 923).( اللہ ہی کا تھا جو اس نے لیا اور جو دیا۔ اور ہر چیز کی اس کے نزدیک ایک عمر مقرر ہے سو تو ان کو حکم کر کہ وہ صبر کریں اور اللہ سے ثواب کی امید رکھیں)

میت كے اقرباء كی تعزیت تدفین كے پہلے اور تدفین كے بعد كی جاسكتی ہے ،اور كسی جگہ بھی كی جاسكتی ہے ،چاہے وہ مسجد میں ہو یا قبرستان پر ہو یا گھر پر ہو یا جہاں و كام كررہے ہوں وہاں ہو ۔

ٹینٹ وغیرہ لگاكر تعزیت كے رسم میں مبالغہ كرنا مناسب نہیں ہے،یا دعوتیں (تیجا وغیرہ كے نام كی ) دیكر لوگوں كو جمع كرنا ، یہ سب نہ تو اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی سنت ہے ، اورنہ ہی آ پكے صحابہ كا طریقہ ہے ،اور نہ تو یہ كوئی خوشی و شادمانی كی مناسبت ہے جو اس طرح سے كیا جائے۔

میت پر غم اور سوگ منانا

رونا یہ نرم طبیعت اور كھونے اور حزن و ملال كی تعبیر ہے ،اور جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے بیٹے ابراہیم كی وفات ہوئی اس وقت آپ كی آنكھ سے بھی آنسو بہہ نكلے (البخاري 1303، مسلم 2315).

میت پر غم كرنے كا اسلام نے چند ضابطے بنائے ہیں :

١
اسلام نے رونے دھونے اور اس كے ساتھ آواز بلند كرنے كو حرام قرار دیا ہے ،اور ساتھ ہی ان سے جڑے ہوئے كام كرنا جو شریعت كے مخالف ہے جیسے چہرے پے مارنا ، سینا كوبی كرنا ، اور كپڑے وغیرہ پھاڑنا ۔
٢
اپںے كسی ایك رشتہ دار كی موت كی وجہ سے تین دن سے زیادہ عورت كو روكنا كہ وہ زینت كرنا چھوڑدے ہاں اگر اس كا شوہر مرجائے تو الگ ہے
٣
بیوی كا سوگ منانا : جس عورت كا شوہر فوت ہو جائے اسے عدت كے دوران چند امور كا پاس و لحاظ ركھنا ضروری ہے ۔

جس عورت كا شوہر فوت ہو جائے اس كی عدت كی مدت

اس كی مدت چار مہینے دس دن ہے ،اور اگر وہ حاملہ ہے تو اس كی عدت بچہ پیدا ہونے تك ہے

شوہر كی وفات پر عدت منانے والی عورت پر كیا ہے ؟

١
عدت كے دوران اسے خوشبو لگانے سے ، عطر استعمال كرنے سے ، زیور اور زینت كے كپڑے پہننے سے ، مہندی لگانے اور ہر قسم كے میكپ كرنے سے اجتناب كرنا واجب ہے
٢
عورت جس كپڑے میں زینت نہ ہو وہ جس بھی رنگ كا ہو جو عموما استعمال كرتی ہے وہ سب اس كے لئے جائزہے ،اورایسے ہی اسے غسل كرنے اور بال جھاڑنے سے منع نہیں كیا جائے گا ، اور اس كے لئے رات میں نہیں دن ميں ضرورت كے لئے نكلنا جائز ہے اور بغیر شك سے اجانب مرد سے بات كر سكتی ہے ۔

قبروں كی زیارت : قبروں كی زیارت كی تین قسمیں ہیں :

١
مستحب زیارت
٢
میاح زیارت
٣
حرام زیات

1-مستحب زیارت

قبر كی یہ وہ زیارت ہے جو موت ، قبر اور دار آخرت یاد دلائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها"، وفي رواية: "فإنها تذكر الآخرة" (مسلم 977, الترمذي 1054)(میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا۔ اب محمد کو اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تو تم بھی ان کی زیارت کرو، اور مسلم كی ایك روایت میں یوں ہے "فإنها تذكر الآخرة" (مسلم 977,) ( یہ چیز آخرت کو یاد دلاتی ہے) اور اس زیارت سے اپنے ہی شہر كے قرستان كی زیارت ہے ،اور اس نہ تو سفر ہے اور نہ ہی سازو سامان لیكر كوچ كرنا ہے ،اور كوچ كرنے كا حكم صرف تین مسدوں میں عبادت كے لئے ہے ۔

2-مباح زیارت

اور یہ وہ زیات ہے جو مباح مقصد كے لئے ہے ، موت یاد كرنے كے لئے نہیں ، اور یہ زیارت حرام چیز كو شامل نہیں ہے ،مثلا كوئی اپنے قریبی كا یا اپنے دوست كی قبر كی زیارت كرے ،اور اس كی نیت میں آحرت یاد كرنے كا كوئی ارادہ نہیں

3- حرام زیارت

یہ وہ زیارت ہے جس كے ساتھ حرام چیزیں جڑي ہیں،جیسے قبر پربیٹھنا اور اسے روندنا ،اور وہاں نوحہ كرنا چھہرے نو چنا، چیخ و پكار كرنااور بلند آواز سے رونا ،یا اس كے ساتھ بدعت كی چیزیں جڑي ہوں جیسے قبروالے سے وسیلہ پكڑنا ،قبرك سے تبرك كرنا یا اسے چومنا ، یا اس كے ساتھ شركیہ اعمال جڑے ہوں جیسے قبروالے سے حاجت روائی كی درخواست كرنا اور اس فریاد رسی كرنا۔

مسلمان كی قبروں كی زیارت كے لئے یہی چند مقاصد ہوتے ہیں:

١
پہلا : آخرت كو یاد كرن ،عبرت حاصل كرنا ،اور موت سے نصیحت پكڑنا
٢
دوسرا: میت پر احسان كرتے ہوئے اسے مغفرت و رحمت كی دعا دینا ،اس لئے كہ اسے یہ میسر ہے ، اور خوش ہو جیسا كہ زندہ خوش ہوتا ہے ،جب اس سے كوئی ملنے آتا ہے اور اسے یدیہ دیتا ہے ۔
٣
تیسرا : زیارت كرنے والے كا قبر كی زیارت كے بارے میں شرعی سنت كی اتباع كرے كے اپنے نفس پر احسان كرنا ہے ،اور اجر كمانا ہے ،

قبر كی زیارت كے وقت یہ آگاہی ضروری ہے كہ وہ قبر پرنہ بیٹھے ،اور میت كا احترام اور اس كی تكریم كرتے ہوئے قبركو نہ روندے ،اسی وجہ سے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كی سزا بیان فرماتے ہوئے كہا ہے : "لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده، خيرٌ له من أن يجلس على قبر" (مسلم 971).(اگر کوئی ایک انگارے پر بیٹھے اور اس کے کپڑے جل جائیں اور اس کی کھال تک پہنچے تو بھی بہتر ہے اس سے کہ قبر پر بیٹھے)

قبروں كے پاس دعا كرنا

اور قبروں كی زیارت كے وقت پڑھي جانے والی دعا جو آئی ہے: «السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإِنا إِن شاء الله بكم لاحقون» (مسلم 249).(سلام ہے تم پر یہ گھر ہے مسلمانوں کا اور ہم اللہ چاہے تو تم سے ملنے والے ہیں) یا یہ دعا پڑھے«السلام على أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، ويرحم الله المستقدمين منا والمستأخرين، وإِنا إِن شاء الله بكم للاحقون» (مسلم 974 ) ( سلام ہے ایماندار گھر والوں پر، اور مسلمانوں پر اللہ رحمت کرے ہم سے آگے جانے والوں پر اور پیچھے جانے والوں پر اور ہم، اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں) یا اسیا كہے « السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين والمسلمين، وإنا إن شاء الله للاحقون، أسأل الله لنا ولكم العافية » (مسلم 975 ). (سلام ہو تم پر اے صاحب گھروں کے مؤمنوں اور مسلمانوں سے اور تحقیق ہم اگر اللہ نے چاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔ ہم اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں)

كامیابی سے آپ نے درس مكمل كیا


امتحان شروع كریں