موجودہ قسم مالی لین دین
سبق: سود
اللہ كی حكمت كا یہی تقاضا تھا كہ شریعت اسلامیہ میں سود بڑے حرام كردہ چیزوں میں سے ہو ،اور یہ ہم سے پہلے دیگر امتوں پر حرام قرار دیا جا چكا تھا ، كیوں یہ معاشرے كے ہر طبقہ اجتماعی و فردی دونوں كی تباہی و بربادی اوربڑی آزمائش كا پیش خیمہ ہے ،اللہ تعالی كا ارشاد ہے : {فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا (160) وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ...} [النساء: 160، 161].( تو جو لوگ یہودی بن گئے، ان کے بڑے ظلم ہی کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں، جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے۔ [160] اور ان کے سود لینے کی وجہ سے، حالانکہ یقینا انھیں اس سے منع کیا گیا تھا اور ان کے لوگوں کے اموال باطل طریقے کے ساتھ کھانے کی وجہ سے اور ہم نے ان میں سے کفر کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے)۔
اور جو چیزیں سود كی سنگینیاں واضح كرتی ہیں وہ سخت وعید ہے جو اس بارے میں آئی ہے،اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا : {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ} [البقرة: 278، 279](اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی ہے چھوڑ دو، اگر تم مومن ہو۔ [278] پھر اگر تم نے یہ نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بڑی جنگ کے اعلان سے آگاہ ہو جائو)، چنانچہ اللہ سبحانہ و تعالی نے سود سے منع فرمایا اور اسے حرام قرار دیا ، اور سود خور سے جنگ كا وعدہ كیا ۔
اور نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كے حرام ہونے پراور زور دیا ،اور اس پرشدید وعید سنائی ، جیسا كہ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : "لَعَنَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَقالَ: هُمْ سَوَاءٌ" (مسلم 1598).(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی سود کھانے والے پر اور سود کھلانے والے پر اور سود لکھنے والے پر اور سود کے گواہوں پر اور فرمایا: وہ سب برابر ہیں)،
سود كی تعریف
سود كی تعریف
سود كی قسمیں
نقود كو نقود كے بدلے یا كھانے كو كھانے كے بدلے زیادتی كے ساتھ بیچنا۔
وہ زیادتی جو بیچنے والا خریدنے والے سے كچھ دن مہلت دینے كے عوض لیتا ہے
سود كا حكم
سود كے حرام ہونے كی حكمت
2-بلاعوض كمانے كی ممانعت:اسلام مالی لین دین كو اس طرح مضبوط بناتا ہے جس سے دونوں فریق كے مفادات حاصل ہوتے ہیں ،ان دونوں میں ہر ایك كچھ پیش كرتے ہیں اور اس كے مقابل میں حاصل كرتے ہیں ،اور یہ چیز سود سے حاصل نہیں ہوسكتی ۔
3-سود لوگوں كے درمیان سے بھلائی كوكاٹ دیتی ہے ، اور یہ لوگوں كے ما بین بھلائی اور احسان كی نشر و اشاعت میں مقصد اسلام كے صریح مخالف ہے ۔
4-استحصال كی ممانعت:قرض دینے والا عموماقرض لینے والے كی ضرورت كا ناجائز استعمال كرتا ہے ؛ تو اسے سود پر قرض دیتا ہے ۔
5-ظلم روكنا : سود دو فریق میں سے ایك پر ظلم ہے ، اور اللہ تعالی نے ظلم كی تمام قسموں كو حرام قرار دیا ہے ۔
سود كے نقصانات
1-اخلاقی اور روحی نقصنات
سود معاشرے كی تباہی كا سب سے بڑا سبب ہے ،اس طور سے كہ وہ اسے منتشر اور متفرق بنا دیتا ہے، اور اس میں طاقتور كمزور كو نگل جاتا ہے ، اور اس میں صرف مطلوبہ مفاد كے مد نظر ہی كوئی كسی كی تعاون كرتا ہے ،