تعلیم كو فالو اپ كریں

اب تك آپ نے انڑی كے لئے رجسٹریشن نہیں كیا
اپنی ترقی كے فالواپ كے لئے اور پوائنٹس اكٹھا كرنے كے لئے ،اور مسابقے میں شركت كے لئے منصہ تاء میں فورا رجسٹریشن كریں ،رجسٹرد ہونے كے بعد جن موضوعات كی آپ تعلیم حاصل كررہے ہیں آپ اس كی الكڑانك سرٹیفیكیٹ حاصل كریں گے

موجودہ قسم مسلم خاتون

سبق: اسلام میں عورت كے حقوق

اس درس میں ہم اسلام كے عورت كے حقوق كے متعلق بعض چیزوں كےبارے میں معلومات حاصل كریں گے ۔

  • اسلام می عورت كی تكریم اور سابقہ امتوں میں عورت كی توہین و تذلیل كے درمیان فرق كا بیان ۔
  • اسلام كا دو جنسوں كے درمیان مساوات كے مسئلے كے ساتھ سلوك میں ضابطہ عامہ كا بیان۔
  • وہ متعدد حقوق نسواں جن كو  اشلامی شریعت نےمختلف شعبوں میں ضمانت دی ہےاس كی وضاحت۔

اسلام كا عورت كا خیال

دین اسلامی نے اپنی تعلیمات ربانیہ اور ارشادات حكیمہ كی روشنی میں مسلمان عورت پر پوری توجہ دی ہے ،اور اس كی عزت كا تحفظ كیا ہے ، اور اسے عزت وسعادت سے بہرہ مند كرتے ہوئے اس كی صمانت لی ہے ، اور اس كےلئے آرام دہ زندگی جینے كے لئے اسباب فراہم كیا ہے ، اور اسے شكوك و شبہات ، فتنوں ، اور شرو فساد كی جگہوں سے ركھا گیا ہے، اور اللہ كی یہ سب عظیم رحمت عورت كے لئے بالخصوص اور معاشرے كے لئے بالعموم ہے ۔اور اس كرم فرمائی كی متعدد شكلیں ہیں ۔

عزت اور اعلی مقام

اسللام نے عورت كی عزت اور اس كی انسانیت كی ضمانت لی ہے ، اور وہ جس مقام پر فائز ہو وہیں اللہ نے اس كے شایان شان مرتبہ عطا كیا ہے ،چاہے وہ بیوی بن كر اور بیٹی بن كر وغیرہ ہو ، تو اللہ نے اس كے ساتھ نیكی كرنےاور حسن سلوك كرنے اور اسے خصوصی اہتمام دینے كا حكم فرمایا،جییساكہ اس نے بدعنوان دینی ، فكری ، اور سماجی وراثت كا مقابلہ كیا جو عورت كی شان كو گھٹا رہے تھے یا اس كی تذلیل و تحقیر كررہے تھے ۔

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "والله إن كنا في الجاهلية ما نعد للنساء أمراً، حتى أنزل الله فيهن ما أنزل، وقسم لهن ما قسم" (البخاري 4913، ومسلم 1479).( اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کئے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کئے جو مقرر کرنے تھے)چودہ سو سال پہلے اسلام كا نور روشن ہوا ،اور عورت كے مقام كو ترقی عطا كی ، اور اس سے ایسے بہت سے ظلم كو دور كیا جو بہت سی قوموں اور لوگوں كے ذریعہ روا ركھا گیا تھا ، اور اسی میں سے یہ ہے كہ عورت كے لئے كسی چیز كی حق ملكیت نہ تھی ، اور نہ ہی وہ وارث ہوتی تھی ، اور بیوی جب اس كا خاوند مر جاتا تو یاتو اسے وارث بنایا جاتا یا اسے جلا دیا جاتا ، اور وہ بیچي و خریدی جاتی تھي ، اور مثال كے طور پر یہ سلسلہ انگلشتان میں بیسویں صدی كے آغاز تك جاری رہا ۔

عورت اور مرد كے درمیان عدل و انصاف

اسلام رب العالمین كا دین ہے ، وہ رب جو بہت جاننے والا ، عدل و حكمت والا ہے ، اور یہ اللہ ہی كے عدل و حكمت كا نتیجہ ہے كہ اس نے دو مختلف جنسوں كو یكسانیت نہیں بخشی ، اور دو برابر ایك جیسوں كے درمیان فرق نہیں كیا ، اسی لئے ہم شریعت اسلامیہ كو پاتے ہیں كہ اس نے ان چیزوں میں مرد وعورت كے درمیان مساوات قائم كیا جس میں وہ دونوں مشابہت و مماثلت ركھتے ہیں ، اور جن میں امور میں وہ جدا ہیں ان كے درمیان تفریق پیدا كی ، اس وجہ سے كہ ان كے حقوق و فرائض ان دونوں كی فطرت اور ان كی ضرورت و صلاحیت كے مناسب ہو جائے ، اور جبلت وہی ہے جس پر اللہ نے انہیں پیدا كیا ہے ، تو اسلام نے عورت كو تمام شعبوں میں اس كے مناسب مقام و مرتبہ سے نوازا ہے ، اور اس كے اور مرد كے بیچ بہت سارے میدانوں میں برابری قائم كی ہے ، اور اسی میں سے ہے :

اصل پیدائش

عورت كے لئے سابقہ امتوں كی حقارت و ذلت اس درجہ كو پہنچی كہ اسے كامل انسانیت كی حدوں سے باہر نكال دیا ، ارسطو كہتاہے :بلاشبہ عورت ایك نامكمل مرد ہے ، اور فطرت نے اسے تخلیق كے سب سے نچلے پائیدان پر لا چھوڑا ہے ، اور سقراط اسے زہر آلود درخت سے تشبیہ دیتا ہے ، اور روم میں ایك بڑی كانفرنس كا انعقادكیا گیا جس میں یہ قرار پاس ہوا كہ عورت بے روح یا ٹمپریری ہے ، اور وہ اخروی زندگی كی كبھي وارث نہیں ہو سكتی ، اور وہ پلید ہے ، اور اس پر واجب ہے كہ وہ گوشت نہ كھائے ، اور وہ نہ ہنسے،اور وہ گفتگو نہ كرے ،رہی بات فرانسیوں كی تو انہوں نے سن 586 عیسوی میں ایك اہم موضوع پر كانفرنس كا انعقاد كیا ، اور وہ ہے :كیا عورت كو انسان شمار كیا جائے یا نہ شمار كیا جائے ؟،اور كیا اس میں روح ہے یا روح نہیں ہے ؟اگر اس میں روح ہے تو كیا وہ حیوانی روح ہے یا انسانی روح ؟ اور اگر وہ انسانی روح ہے تو كیا وہ آدمی كی روح كے لیول كی ہے یا اس سے كمتر ؟ بلاخر انہوں نے یہ قرار پاس كیا كہ وہ انسان ہے ، لیكن وہ صرف آدمی كی خدمت كے لئے ہی پیدا كی گئی ہے بس ، لیكن اسلام یہ اصل خلقت میں دونوں جنسوں میں برابری ثابت كرتا ہے ، اللہ تعالی فرماتا ہے : {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1].(اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کی بیوی کو پیدا کرکے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے)۔

دینی مساوات

شرعی تكالیف میں اسلام نے مردو عورت كے درمیان برابری كا درجہ دیا ہے ، اور اسی طرح اس كے دنیا و آخرت میں جزاء و ثواب میں برابری كا درجہ دیا ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [النحل: 97]،( جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے) ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا: {وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا} [النساء: 124](جو ایمان واﻻ ہو مرد ہو یا عورت اور وه نیک اعمال کرے، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص (کپڑے پر) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غسل کرے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر غسل نہیں ہے“۔ یہ سن کر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر عورت (خواب میں) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ عورتیں (اصل خلقت اور طبیعت میں) مردوں ہی کی طرح ہیں)((حسن) إلا قول أم سليم: المرأة ترى...)۔

اور پہلا وہ جو رسول اللہ كی رسالت پرایمان لایا وہ عورت تھی ، اور وہ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں ، اور حبشہ كی ہجرت كے سفر میں عورتیں بھي شامل تھيں ،اور یثرب سے آنے والے پہلے وفد میں آكر نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت كرنے والی عورتیں بھی تھيں ۔

اور اسلامی تاریخ میں عورت نے تابندہ نمونے رقم كیا ہے ، جس میں وہ اپنی صفات حمیدہ اور وسیع علم اور اسلام كے پیغام كی فہیم ركھنے والی صفت سے پہچانی گ‍ئی ہے ،بلكہ بیشتر اوقات اس نے اس میدان میں قائدانہ رول ادا كیا ہے ، اس طور سے كہ مسلمانوں نے اپنے دین كے بیشتر امور علم و تعلیم میں نمونہ كی حیثیت ركھنے والی مسلمہ ، عالمہ اور پیشوائی كے مقام ركھنے والیوں سے اخذ كیا ہے ، اور ان میں سب سے نمایا نام ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا كا ہے ۔

اور عورت مرد كے اجتماعی عبادات میں شریك ہوتی ہے ،كبھی وجوبی اور كبھی مندوب تو كبھی اباحت كے طور پر ، جیسے حج و عمرہ ، اور نماز استسقاء اور عیدین ، اور نماز جمعہ و جماعت ، اور اسے بھي اسلام كی طرف دعوت دینے كا حكم دیا گیا ہے ، اور وہ لوگوں كو بھلائی كا حكم دیتی ہے اور انہیں منكر سے روكتی ہے ، اس كے علاوہ شرعی تكالیف میں دونوں جنسوں كے درمیان برابری كی واضح شكلیں موجود ہیں ، اور اس سے استثنی انہیں امور میں ہے جس كا تعلق ان دونوں كے درمیان خلقت كے اختلاف كی بنیاد پر ہے ،

قاعدہ عامہ كے طور پر تكالیف میں برابری كے مبدا كو اسلام كے اقرار كرنے كے ساتھ ہی اسلام نے ان دو جنسوں كے درمیان فطرت كے پائے جانے والے اختلاف كی بھر پور رعایت كی ہے ،اور اس كے نتیجے میں كاموں میں پائے جانے والے اختلاف كا بھی خیال كیا ہے ، اور ان كاموں كو منظم كیا ہے اور ہر فرد كو اس كے صحیح جگہ پر مقرر كیا ہے جو زندگی میں تكامل و انضمام تك پہنچاتا ہے ، اس لئے مرد عورت اور اولاد پرخرچ كرنے كا ذمہ دار ہے ، اور اس كی ہی خاندان كے تمام شعبوں میں ان كی حفاظت اور نگرانی كرے ،اور عورت اپنے گھر ، شوہر اور اولاد كی ذمہ دار ہے ، اور اس كے لئے ضروری ہے كہ وہ اپنی ذمہ داری كو سنبھالے ۔

اسلام نےخواتین كے شہری ، اجتماعی ، اور ذاتی حیثیت كے حقوق كی ضمانت دی ہے،اور خواتین كے یہ حقوق رسالت كے آّغاز سے تقریبا چودھ سو سال پہلے سے محفوظ ہیں ، اور یہ دور حاضركی سول اور انیسانی حقوق كی تنظیموں كے راگ آلاپنے سے بہت پہلے كی ہے ۔

خواتین كے شہری اور سماجی حقوق

١
عورت كے تعلیم و تعلم كا حق : اسلام علم پرابھارتا ہے اور اس میں مرد و خواتین كو برابر برابر ترغیب دیتا ہے ،
٢
عورت كے عمل كا حق : اصل یہ ہے كہ آدمی كام كرے اور خرچ كرے ،لیكن اسلام میں عورت اگر ضرورت محسوس كرے تو عمل سے كو ئی چیز مانع نہیں ہے ،اس شرط كے ساتھ كہ وہ اسلامی احكام اور اس كی تعلیمات اور اخلاق كے عین مطابق انجام پائے ۔
٣
میراث میں عورت كا حق: اللہ كی كتاب اور سنت نبویہ نیز فقہ كی كتابیں مرد و عورت كے برابر برابر میراث كی متدد شكلوں كے متعلق گفتگو سے بھری پڑی ہیں ۔
٤
مالك بننےمیں عورت كا حق : عورت كو مالك بننے میں كامل حق حاصل ہے ، چاہے وہ جو وہ اپنے عمل سے كمائے یا جو اسے وراثت میں ملے ،اور اسے جس كا وہ مالك ہو مكمل تصرف كا حق حاصل ہے ، اور اس كی اپنی مالی خاص جائداد ہے ،وہ اس میں نہ باپ اور نہ ہی شوہر اور نہ ہی ان دونوں كے علاوہ كسی كے پیچھے جانے كی ضرورت ہے ۔

ذاتی حیثیت اور شادی میں خواتین کے حقوق

١
نیك شوہر كے انتخاب یا شادی كا پیغام بھیجنے والے كے قول یا انكار میں عورت كا حق ،
٢
عورت كا حق مہر (مہر)
٣
عورت کا مادی چیزوں كے دیکھ بھال کا حق اور شوہر کا اس پر اور اس کے بچوں پر خرچ کرنا،
٤
بھلائی كے ساتھ اپنے خاوند كی معاشرت كا حق اور قول و فعل كے اعتبار سے حسن اخلاق كے ساتھ تعامل ۔
٥
تعدد زوجات كے وقت تعامل میں عدل و انصاف میں اس كا حق ،
٦
عورت كا مالی آزادی كا حق ، اور شوہر سے آزادانہ مادی ذمہ داری كا حق،
٧
عورت كا خلع كا حق ، اور طلب طلاق اور اس كے حصول كا حق ؛شروط اور اس كے مستحقات كے پائے جانے كے وقت ۔
٨
طلاق كےبعد عورت كے اپنے بچوں كی نگہداشت كا حق ، جب تك كہ وہ شادی نہ كرلے ۔

جو گذرا ہے وہ صرف اسلام مین عورتوں كے بعض حقوق كے بیان كی چند مثالیں ہیں، ورنہ تو شریعت اسلامیہ نے خواتین كو جن حقوق سے نوازا ہے وہ بہت بڑی تعداد میں ہیں ،

كامیابی سے آپ نے درس مكمل كیا


امتحان شروع كریں