موجودہ قسم مسلم خاتون
سبق: اسلام میں عورت كے حقوق
دین اسلامی نے اپنی تعلیمات ربانیہ اور ارشادات حكیمہ كی روشنی میں مسلمان عورت پر پوری توجہ دی ہے ،اور اس كی عزت كا تحفظ كیا ہے ، اور اسے عزت وسعادت سے بہرہ مند كرتے ہوئے اس كی صمانت لی ہے ، اور اس كےلئے آرام دہ زندگی جینے كے لئے اسباب فراہم كیا ہے ، اور اسے شكوك و شبہات ، فتنوں ، اور شرو فساد كی جگہوں سے ركھا گیا ہے، اور اللہ كی یہ سب عظیم رحمت عورت كے لئے بالخصوص اور معاشرے كے لئے بالعموم ہے ۔اور اس كرم فرمائی كی متعدد شكلیں ہیں ۔
عزت اور اعلی مقام
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "والله إن كنا في الجاهلية ما نعد للنساء أمراً، حتى أنزل الله فيهن ما أنزل، وقسم لهن ما قسم" (البخاري 4913، ومسلم 1479).( اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کئے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کئے جو مقرر کرنے تھے)چودہ سو سال پہلے اسلام كا نور روشن ہوا ،اور عورت كے مقام كو ترقی عطا كی ، اور اس سے ایسے بہت سے ظلم كو دور كیا جو بہت سی قوموں اور لوگوں كے ذریعہ روا ركھا گیا تھا ، اور اسی میں سے یہ ہے كہ عورت كے لئے كسی چیز كی حق ملكیت نہ تھی ، اور نہ ہی وہ وارث ہوتی تھی ، اور بیوی جب اس كا خاوند مر جاتا تو یاتو اسے وارث بنایا جاتا یا اسے جلا دیا جاتا ، اور وہ بیچي و خریدی جاتی تھي ، اور مثال كے طور پر یہ سلسلہ انگلشتان میں بیسویں صدی كے آغاز تك جاری رہا ۔
عورت اور مرد كے درمیان عدل و انصاف
اصل پیدائش
شرعی تكالیف میں اسلام نے مردو عورت كے درمیان برابری كا درجہ دیا ہے ، اور اسی طرح اس كے دنیا و آخرت میں جزاء و ثواب میں برابری كا درجہ دیا ہے ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے : {مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [النحل: 97]،( جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے) ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا: {وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا} [النساء: 124](جو ایمان واﻻ ہو مرد ہو یا عورت اور وه نیک اعمال کرے، یقیناً ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف برابر بھی ان کا حق نہ مارا جائے گا)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ ایک شخص (کپڑے پر) تری دیکھے اور اسے احتلام یاد نہ ہو تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غسل کرے“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کو ایسا محسوس ہو رہا ہو کہ اسے احتلام ہوا ہے، مگر وہ تری نہ دیکھے، تو کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پر غسل نہیں ہے“۔ یہ سن کر ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر عورت (خواب میں) یہی دیکھے تو کیا اس پر بھی غسل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ عورتیں (اصل خلقت اور طبیعت میں) مردوں ہی کی طرح ہیں)((حسن) إلا قول أم سليم: المرأة ترى...)۔
اور پہلا وہ جو رسول اللہ كی رسالت پرایمان لایا وہ عورت تھی ، اور وہ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنہا ہیں ، اور حبشہ كی ہجرت كے سفر میں عورتیں بھي شامل تھيں ،اور یثرب سے آنے والے پہلے وفد میں آكر نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت كرنے والی عورتیں بھی تھيں ۔
اور اسلامی تاریخ میں عورت نے تابندہ نمونے رقم كیا ہے ، جس میں وہ اپنی صفات حمیدہ اور وسیع علم اور اسلام كے پیغام كی فہیم ركھنے والی صفت سے پہچانی گئی ہے ،بلكہ بیشتر اوقات اس نے اس میدان میں قائدانہ رول ادا كیا ہے ، اس طور سے كہ مسلمانوں نے اپنے دین كے بیشتر امور علم و تعلیم میں نمونہ كی حیثیت ركھنے والی مسلمہ ، عالمہ اور پیشوائی كے مقام ركھنے والیوں سے اخذ كیا ہے ، اور ان میں سب سے نمایا نام ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا كا ہے ۔
اور عورت مرد كے اجتماعی عبادات میں شریك ہوتی ہے ،كبھی وجوبی اور كبھی مندوب تو كبھی اباحت كے طور پر ، جیسے حج و عمرہ ، اور نماز استسقاء اور عیدین ، اور نماز جمعہ و جماعت ، اور اسے بھي اسلام كی طرف دعوت دینے كا حكم دیا گیا ہے ، اور وہ لوگوں كو بھلائی كا حكم دیتی ہے اور انہیں منكر سے روكتی ہے ، اس كے علاوہ شرعی تكالیف میں دونوں جنسوں كے درمیان برابری كی واضح شكلیں موجود ہیں ، اور اس سے استثنی انہیں امور میں ہے جس كا تعلق ان دونوں كے درمیان خلقت كے اختلاف كی بنیاد پر ہے ،
قاعدہ عامہ كے طور پر تكالیف میں برابری كے مبدا كو اسلام كے اقرار كرنے كے ساتھ ہی اسلام نے ان دو جنسوں كے درمیان فطرت كے پائے جانے والے اختلاف كی بھر پور رعایت كی ہے ،اور اس كے نتیجے میں كاموں میں پائے جانے والے اختلاف كا بھی خیال كیا ہے ، اور ان كاموں كو منظم كیا ہے اور ہر فرد كو اس كے صحیح جگہ پر مقرر كیا ہے جو زندگی میں تكامل و انضمام تك پہنچاتا ہے ، اس لئے مرد عورت اور اولاد پرخرچ كرنے كا ذمہ دار ہے ، اور اس كی ہی خاندان كے تمام شعبوں میں ان كی حفاظت اور نگرانی كرے ،اور عورت اپنے گھر ، شوہر اور اولاد كی ذمہ دار ہے ، اور اس كے لئے ضروری ہے كہ وہ اپنی ذمہ داری كو سنبھالے ۔
اسلام نےخواتین كے شہری ، اجتماعی ، اور ذاتی حیثیت كے حقوق كی ضمانت دی ہے،اور خواتین كے یہ حقوق رسالت كے آّغاز سے تقریبا چودھ سو سال پہلے سے محفوظ ہیں ، اور یہ دور حاضركی سول اور انیسانی حقوق كی تنظیموں كے راگ آلاپنے سے بہت پہلے كی ہے ۔
خواتین كے شہری اور سماجی حقوق
ذاتی حیثیت اور شادی میں خواتین کے حقوق
جو گذرا ہے وہ صرف اسلام مین عورتوں كے بعض حقوق كے بیان كی چند مثالیں ہیں، ورنہ تو شریعت اسلامیہ نے خواتین كو جن حقوق سے نوازا ہے وہ بہت بڑی تعداد میں ہیں ،