موجودہ قسم طہارت (پاكی حاصل كرنا)
سبق: استنجا ءاور قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) كے آداب
قضائے حاجت (پیشاب و پاخانہ) كے آداب
قضائے حاجت كی حالت میں لوگوں كی نظروں سے اپنے شرمگاہ كی پردہ پوشی كرنامسلمان پر واجب ہے۔
اور اس پر حرام ہے كہ ایسی جگہ قضائے حاجت كرے جہاں لوگوں كو تكلیف پہونچے
اوراس پر یہ بھي حرام ہے كہ جب وہ صحراء میں ہوتو وہ كسی سوراخ میں قضائے حاجت كرے اس وجہ سے كہ اس میں كوئی جانور ہو جسكو یہ ایذا پہونچا دے یا وہ جانور اس كو ایذا پہونچا دے ۔
اور كپڑے و بدن كو قضائے حاجت كے دوران اڑنے والی ناپاكیوں سے بچانا اس پر واجب ہے ، اور جہاں نجاست (ناپاكی ) لگ جائے اس جگہ كا دھونا بھی واجب ہے۔
جب كوئی قضائے حاجت كرے تو اس پر دو كاموں میں سے ایك كام واجب ہے
استنجاء:بدن سے پیشاب و پاخانہ نكلنے كی جگہ كو پانی سے دھونا
استجمار: كہتے ہیں پیشاب یا پاخانہ نكلنے كی جگہ كو تین یا اس سے زیادہ ٹیشو یا پتھروں سے صاف كرنا یا اس جیسی چیزوں سے بدن كو پاك كردے اور نجاست سے اسے صاف كردے۔
حدث
مسلمان سے حدث زائل ہو جاتا ہے ، جب وہ پاك پانی سے وضو یا غسل كرتا ہے ، اورماء طہور اس پانی كو كہتے ہیں جس میں كوئی ناپاكی نہ ملی ہو جو اس كے رنگ ،مزہ یا خوشبو كو بدل دے ۔
حدث كی دو قسمیں ہیں
حدث اصغر اور اس سے وضو ہے
3-اونٹ كا گوشت كھانا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا كیا اونٹ كے گوشت كھانے سے میں وضو كروں ؟ تو آپ نے فرمایا : "نعم" (مسلم 360).( ہاں ، وضو كرو)
4-سونے سے یا پاگل پنی سے یا بے ہوشی سے ، یا نشے سے عقل كا زائل ہو جانا۔