موجودہ قسم موسم سرما (ٹھنڈی )كے احكام
سبق: موسم سرما كى ايماني توقفات
ٹھنڈی عام موسموں كی طرح ایك موسم ہے جسے اللہ نے عظیم حكمت كے پیش نظر مقدر كیا ہے
شتاء (ٹھنڈی) كا لفظ پورے قرآن میں صرف ایك بار آیا ہے اور وہ بھی سورۃ قریش میں ، اللہ كا ارشاد ہے : { لإِيلافِ قُرَيْشٍ، إِيلافِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَاءِ وَالصَّيْفِ}[ قريش:1-2]،«قریش کے مانوس کرنے کے سبب ان کو جاڑے اور گرمی کے سفر سے مانوس کرنے کے سبب» اور ٹھنڈی كا سفر یہ ہے :ٹھنڈی كے موسم میں قریش كا تجارتی سفر،اور وہ ان مواسم میں یمن كا رخ كرتے تھے ،اور موسم گرما میں وہ شام كا رخ كرتے تھے
ٹھنڈي گرمی كا ضد ہے ،اور فصلوں كے مانند موسم خزاں و موسم بہار دو موسم ہیں ،اور بعض اہل علم كا خیال ہے كہ پورے سال میں دو فصل ہوتے ہیں ،ایك گرمی اور دوسرا ٹھنڈی
ٹھنڈی یہ اللہ كی قدرت اور اس كی حكمت و رحمت كے مظاہر ہیں
موسم ٹھنڈ اللہ كی نعمتوں كو یاد كرنے اور اپنی عمروں كو غنیمت جاننے كے لئے ایك اچھا موقع ہے
اللہ كا ارشاد ہے : {وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ أَرَادَ أَن يَذَّكَّرَ أَوْ أَرَادَ شُكُورًا } (الفرقان:62)«اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)»عمر بن خطاب رضي الله عنه نے فرمایا ،رات كی چھوٹی ہوئی چیزوں كو آپ دن میں پورا كرلین ، اس لئے كہ اللہ نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے
موسم سرما اللہ كی نعمتوں كو یاد كرنے ایك اچھا موقع ہے ،كہ اللہ نے گرمی حاصل كرنے كاذریعہ اوونوں اور مشینوں كو فراہم كركے دیا ، اللہ كا ارشاد ہے ﴿وَالْأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ﴾ (النحل:5) ] «اور چارپایوں کو بھی اسی نے پیدا کیا۔ ان میں تمہارے لیے جڑاول اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو» اور ان نعمتوں كا حق یہ كے كہ ان كی شكر گذاری كی جائے ، اللہ كا ارشاد ہے: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} (إبراهيم: 7).«اور جب تمہارے پروردگار نے (تم کو) آگاہ کیا کہ اگر شکر کرو گے تو میں تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رکھو کہ) میرا عذاب بھی سخت ہے»
سخت ٹھنڈی میں آپ كے لئے عبرت و نصیحت جو آپ رسول اللہ كی حدیث سے حاصل كرسكتے ہیں ،"اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا، فَقَالَتْ: يَا رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ، نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ، فَهْوَ أَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ، وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الزَّمْهَرِيرِ". (البخاري 3260، ومسلم 617).رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جہنم نے اپنے رب کے حضور میں شکایت کی اور کہا کہ میرے رب! میرے ہی بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس جاڑے میں اور ایک گرمی میں۔ تم انتہائی گرمی اور انتہائی سردی جو ان موسموں میں دیکھتے ہو، اس کا یہی سبب ہے۔“
اور دو زخیوں كو ٹھنڈ سے عذاب دیا جائے گا،اور ایسے ہی انہیں گرمی سے بھی عذاب دیا جائے گا ، جیسا كہ اللہ كا ارشاد ہے {لاَ يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًا وَلاَ شَرَابًا، إِلاَّ حَمِيمًا وَغَسَّاقًا، جَزَاءً وِفَاقًا} [النبأ:24-26] نہ کبھی اس میں خنکی کا مزه چکھیں گے، نہ پانی کا [24] سوائے گرم پانی اور (بہتی) پیﭗ کے [25] (ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا ، اور غساق اس سخت ٹھنڈی كو كہتے ہیں جو انہیں اپنے ٹھںڈ سے جلا دے گی، اور جب جہنمی گرمی سے مدد چاہیں گے تو ان كی مدد ایسی ٹھنڈی ہواوں سے كی جائے گی جسكی ٹھنڈی ان كے ہڈیوں میں گھس جائے گی پھر وہ جہنم كی گرمی كی مدد مانگیں گے
بعض عبادت گذاروں كا كہنا ہے جب اولے پڑتے دیكھا تو حشرو نشر كے دن نامہ اعمال دئے جانے كی یاد آنے لگی