موجودہ قسم موت و جنازہ
سبق: میت كو غسل دینا اور اسے كفن پہنانا
جب مسلمان كی موت ہو جائے تو جو كام مستحب ہے
جب موت ثابت ہو جائے اور روح بدن سے جدا ہوجائے تو متعدد امور كاكرنا مستحب ہے
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ ابو سلمہ كے پاس آئے تو اس وقت ان نگآہ پھٹی ہوئی تھي ،تو آپ نے اسےڈھك دیا ، اورفرمایا: "إذا حضرتم موتاكم فأغمضوا البصر" (ابن ماجه 1455).(حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: 1092)(جب تم اپنے مردوں کے پاس جاؤ تو ان کی آنکھیں بند کر دو،)
2- صبر كرنا اور دل كو قابو میں ركھنا
رونے اور نوحہ كے وقت آواز اونچی نہ كرنا ،اور میت كے گھروالوں اور رشتہ داروں كو صبر كی تلقین كرنا، جیسا كہ اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجب آپ كے كسی ایك بیٹی كے بچے كی وفات پر صبر كرنے اور اللہ سے ثواب كی امید ركھنے كا حكم فرمایا(البخاري 1284، مسلم 923).
جیسا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سلمہ كے ساتھ كیا _وہ ایك صحابی تھے_ جب وہ وفات پائے تھے ،توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الروح إذا قُبض تبعه البصر" (جب جان نکلتی ہے تو آنکھیں اس کے پیچھے لگی رہتی ہیں) پھر آپ نے یہ دعا كی : "اللهم اغفر لأبي سلمة، وارفع درجته في المهديين، واخلفه في عقبه في الغابرين، واغفر لنا وله يا رب العالمين، وافسح له في قبره، ونور له فيه"(مسلم 920).(ا اللہ! بخش دے ابوسلمہ کو اور بلند کر ان کا درجہ ہدایت والوں میں اور تو خلیفہ ہو جا ان کے باقی رہنے والے عزیزوں میں اور بخش دے ہم کو اور ان کو اے پالنے والے عالموں کے اور کشادہ کر ان کی قبر کو اور روشنی کر اس میں)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ، فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ، فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ" (البخاري 1315، مسلم 944).( جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔)
5-میت كے گھر والوں كی مدد كرنا
اور ان كی بعض پریشانیوں كو دیكھتے ہوئے مدد كرنا ،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا جعفر بن ابی طالب كے گھر والوں كے لئے جس وقت وہ قتل كئے گئے كھانا تیار كرنے كا حكم فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اصنعوا لآل جعفر طعاما فإنه قد أتاهم أمر شغلهم" (أبو داود 3132، الترمذي 998 وصححه، ابن ماجه 1610).(حسن)(جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو کیونکہ ان پر ایک ایسا امر (حادثہ و سانحہ) پیش آ گیا ہے جس نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا ہے۔
میت كو اس كے تكفین اور دفن سے پہلے غسل دینا واجب ہے ،اور اسے اس كے گھر والے یا رشتہ دار یا ان كے علاوہ عام مسلمان اسے غسل دے ،اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی وفات ہوئی تو آپ كو غسل دیا گیا ، حالانكہ آپ پاك تھے اور پاگ كئے گئے تھے
میت كے غسل دینے میں پانی سے پورے بدن كو دھونا كافی ہے،اور اگر ناپاكی ہو تو اسے زائل كیا جائے گا، اور غسل كے وقت اس كے شرم گاہ كی پردہ پوشی كا خیال ركھا جائےگا ،اور آنے والے سطور میں ان امور كا خیال ركھنا بھی مستحب ہے :
1-اس كے ناف اور دونوں گھٹنوں كے درمیان كے شرمگاہ كی پردہ پوشی كی جائے گی ،اوریہ اس كے كپڑے اتانے كے بعد ہے
2-غسل دینے والادستانہ پہن لے یا اپنے ہاتھ پركپڑآ ركھ لے ،اوروہ میت كے شرمگاہ كو دھوئے
3-پہلے میت كی گندگی زائل كرنے سے شروع كرے
4-مشہور ترتیب پر اعضاء وضو كو دھوئے
5-پھر سر كو دھوئے اورباقی سارے بدہ كو دھوئے،اور یہ مستحب كہ بیری كے پتے سے یا صابن سے پہلے دھوئے پھر اس كے بعد پانی ڈالے
6-داہنے پہلو كو پھر بائیں پہلو كو دھونا مستحب ہے
7- تین بار دھونا مستحب ہے اور اگر ضرورت محسوس ہو تو اس سے زیادہ بھی دھویا جاسكتا ہے
جیسا كہ اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں سے كہا جو آپ كی بیٹی زینب رضی اللہ عنہا كو غسل دے رہی تھيں : "اغسلنها ثلاثاً أو خمساً أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك" (البخاري 1253، ومسلم 939).( تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو)
8-ان جگہوں میں كپڑآ یا روئی وغیرہ ركھ دی جائے
آگےاور پیچھے ، دونوں كانوں ، اور ناك اور منہ ؛ یہاں تك كہ ان سے كوئی چيز گندگی یا خون وغیرہ نہ نكلے
میت كے غسل كے دوران اور غسل كے بعد ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں كو حكم دیا جو آپ كی بیٹی زینب كو غسل دے رہی تھیں كہ آخری غسل میں كافور ملا لیں (كافور خوشبو كی ایك قسم ہے )(البخاري 1253 ، مسلم 939).
غسل كون لوگ دیں؟
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: «لَوْ كُنْتُ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا غَسَّلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ نِسَائِهِ» (أبو داود 3141، ابن ماجه 1464).(حسن)(اگر مجھے پہلے یاد آ جاتا جو بعد میں یاد آیا، تو آپ کی بیویاں ہی آپ کو غسل دیتیں۔)
میت كی تكفین ان كپڑوں سے جسے اسے ڈھك لیں ، اور یہ میت كے گھر والوں اور مسلمانوں پر اس كا واجبی حق ہے ،اور یہ فرض كفایہ ہے ،جیساكہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "البسوا من ثيابكم البياض؛ فإنها من خير ثيابكم، وكفنوا فيها موتاكم" (أبو داود 3878)(صحیح)(تم سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سب سے بہتر کپڑا ہے، اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو)
اور اگر میت كے پاس مال ہے تو كفن كے سارے خرچ اس كے تركہ سے لیا جائےگا ،اور اگر اس كے پاس كوئی مال نہیں ہے تو كفن كا خرچ ان لوگوں پر ہے جن لوگوں پر زندگی كی حالت میں اس كا نان و نفقہ تھا، جیسے باپ ، دادا ، بیٹا ، پوتا ، اوراگر انہیں بھی میسر نہ ہوتو مالدار مسلمانوں كی جماعت پر ہے
واجبی كفن میں صرف اتنا پاك كپڑا كافی ہے جو میت چاہے وہ مرد ہو یا عورت كے بدہ كو ڈھك لے