موجودہ قسم نماز
سبق: نماز كا معنی اور اس كی فضیلت
نماز كا معنی
نماز بدنی عبادتوں میں انتہائی عظیم اور بڑي شان والی ہے ،اور یہ ایسی عبادت ہے جو دل ، عقل اورزبان كو شامل ہے، اور بہت سی چیزوں میں نماز كی اہمیت ظاہر ہوتی ہے ، انہیں میں سے كچھ یہ ہیں :
2-نماز مسلمانوں اور كافروں كے درمیان تفریق كرنے والی ہے ، جیسا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے ،: "إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة" (مسلم 82). (آدمی اور شرک اور کفر کے بیچ میں نماز کا ترک ہے)اور ایك دوسری حدیث میں اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة؛ فمن تركها فقد كفر" (الترمذي 2621، النسائي 463 ،(صحیح)).(ہمارے اور منافقین کے درمیان نماز کا معاہدہ ہے تو جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا)
3-اللہ عزوجل نےہر حال میں اس پرمداومت كرنے كا حكم دیا ہے ،چاہے وہ سفرمیں ہو یا حضر میں ہو یا امن و سلامتی كی حالت میں ہو یا پھر جنگ كی حالت میں ہو،یا پھر وہ تندرستی كی حالت میں ہو بیماری كی ،اپنی استطاعت كے مطابق اسے ادا كرے گا،جیسا كہ اللہ تعالی كا ارشاد ہے: (حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَات) (البقرة: 238)،(نمازوں کی حفاﻇت کرو)اور اللہ نے اپنے مومن بندوں كی اس قول كے ساتھ ان كا وصف بیان كیا ہے: (وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ) (المؤمنون: 9).(جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں)
نماز كے فضائل
1-نماز گناہوں كو مٹا دیتی ہے ، جیسا كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان، مكفرات ما بينهن إذا اجتَنَبَ الكبائر" (مسلم 233، الترمذي 214).( پانچوں نمازیں اور جمعہ، جمعہ تک اور رمضان، رمضان تک کفارہ ہو جاتے ہیں ان گناہوں کا جو ان کے بیچ میں ہوں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے بچے)
2-نماز نور ہے اور ایك مسلمان كی پوری زندگی كو منور كرتی ہے ،اسے بھلائی كی دعوت دیتی ہے ، اور شرسے اسے دور ركھتی ہے ، اللہ كا ارشادہے : (إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَر) (العنكبوت: 45)،( یقیناً نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا "الصلاة نور" (مسلم 223).(نماز نور یعنی روشنی ہے )
مومن كے لئے سب سے لذیذ لمحات ہوتے ہیں جس وقت وہ نمازمیں اپنے رب سے سرگوشی كرتا ہے، تو اسے راحت و سكون ، اطمنان اور اللہ عز وجل كی انسیت حاصل ہوتی ہے
اورنماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی سب سے بڑی لذت تھي ، جیسا كہ آپ نے فرمایا: "وجعلت قرة عيني في الصلاة" . ( اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے) (النسائي 3392 (صحیح))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنےموذن نماز كی طرف بلانے والے بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے : "يا بلال، أقم الصلاة أرحنا بها" (أبو داود 4985).(صحیح)(اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو جب كوئی معامل پیش آتا یا آپ كو كوئی چیز مشغول كردیتی تو آپ نماز كے پاس پناہ لیتے جیسا كہ حدیث میں ہے حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی معاملہ پیش آتا تو آپ نماز پڑھتے(أبو داود: 1319).(حسن)