موجودہ قسم نماز
سبق: نماز كی شرطیں اور اس كا حكم
نماز كی شرطیں:
حدث اورنجاست سے پاكی حاصل كرنا،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے فرمایا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو فرماتے ہوئے سنا ہے : «لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ» (مسلم 224).(اللہ بغیر طہارت کےنماز کو قبول نہیں کرتا)
شرم گاہ كی ستر پوشی كی شرط لگائی جائے گی ، اور وہ ایسے كپڑے سے ہو جو عضو كی تفصیل نہ بیان كرے چاہے وہ چھوٹے یا چست ہونے كی بناپر ہو یا اس كے بالكل باریك اورشفاف ہو نےكی وجہ سے ہو۔
ناف سے گھٹنے تك
عورت كا پورا بدن چہرہ اور ہتھیلی چھوڑ كر سب چھپانے كی چیز ہے،عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے فرماتی ہیں كہ اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يقبل الله صلاة حائض [أي: بالغ] إلا بخمار» (أبو داود 641، والترمذي 377) (صحیح)(بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا)
اللہ تعالی نے فرمایا: (وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) (البقرة: 149).(آپ جہاں سے نکلیں اپنا منھ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں)
تمام مسلمانوں كا قبلہ وہی كعبہ شریف ہے جسے ابو الانبیاء ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر كیا ہے ، اور تمام انبیاء نے اس كا حج كیا ہے ،اور ہمیں اس كا علم ہے كہ وہ پتھر ہیں جو نفع و نقصان نہیں پہونچا سكتے ہیں ،لیكن اللہ تعالی نے نماز میں اس كی طرف ہمیں رخ كرنے كا حكم دیا ہے،تاكہ تمام مسلمانوں كا ایك ہی سمت ہو جائے ، اوراسی رخ پر ہم تمام لوگ اللہ كی عبادت كریں۔
قبلہ رخ ہونے كی كیفیت
اس لاچاری اور بے بسی كی وجہ سے یہ وجوب اس سے ساقط ہو جائے گا ،جیسے كہ تمام واجبات بے بسی كی صورت میں ساقط ہو جاتے ہیں ، اللہ تعالی كا ارشاد ہے ،:(فَاتَّقُوا اللهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ) (التغابن: 16).( پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو )
یہ نماز كے صحیح ہونے كی شرط ہے ،نماز كے وقت كے داخل ہونے سے پہلے نماز صحیح نہیں ، اور اس كے وقت سے اسے موخر كرنا حرام ہے ،جیسا كہ اللہ نے فرمایا: (إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا) (النساء: 103).( یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے)
نماز كو اس كے اول وقت میں ادا كرنا افضل ہے ،ام فروہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہےفرماتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال كیا گیا :كونسا عمل افضل ہے؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الصلاة في أول وقتها» (أبو داود 426).(نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا) (صحیح)(اس کے راوی قاسم مضطرب الحدیث اور عبداللہ بن عمر سیٔ الحفظ ہیں، نیز بعض أمھاتہ مجہول راوی ہیں) لیکن یہ حدیث شواہد کی بنا پر اس باب میں صحیح ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث متفق علیہ (بخاری و مسلم) میں ہے)
نماز كو اس كے وقت میں ادا كرنا واجب ہے ، اور اسے تاخیر كرنا حرام ہے ، سوائے ان حالتوں كے جس میں دونمازوں كے بیچ جمع كرنے كی رخصت دی گئی ہے۔
جب نماز كی یادپڑے اسی وقت اس كی قضامیں پہلے كرنا واجب ہے ،جیسا كہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو نماز کو بھول جائے ، یا سو جائے تو جب یاد آئے ادا کر لے یہی اس کا کفارہ ہے۔
نماز كا واجب ہونا
درج ذیل نشانیوں میں سےكسی ایك نشانی پائی جانے كی صورت میں بالغ ہونے كا حكم لگایا جائےگا:
پانچ فرض نمازیں اور ان كی اوقات
فجركی فرض دو ركعتیں ہیں، اس كا وقت فجر ثانی سے شروع ہوتا ہے ،اور فجرثانی مشرق كی سمت میں آسمان میں شروع ہونے والی روشنی ، اور اس كا وقت سورج كے طلوع ہونے تك رہتاہے ۔
اور ظہر كی فرض چار ركعت ہے ،اس كا وقت سورج كے زوال سے شروع ہوتا ہے، _آسمان كے بیچ میں ہونےكے بعد مغرب كی سمت سورج كا مائل ہونا_اور اس كا وقت ہر چیز كا سایہ اس كی لمبائی كے برابر ہونےتك رہتا ہے ،
اور عصركی فرض چار ركعت ہے ،اوراس كا وقت ظہر كا وقت نكل جانے سے شروع ہوتا ہے،یعنی جب ہر چیز كا سایہ اس كے لمبائی كے مثل ہو جائے ،اور سورج ڈوبتے ہی اس كا وقت ختم ہو جاتا ہے ،اور سورج كی شعاؤں كے كمزور پڑںے اور اس كے رنگ كے پیلے ہونےسے پہلے مسلمان كے لئے اس نماز كی ادائیگی میں جلدی كرنا مناسب ہے،
مغرب كی فرض تین ركعتیں ہیں ، اور اس كا وقت آسمان میں سورج ڈوبنے اور اس كے گولےكےچھپنے سے شروع ہوتا ہے ،اور سورج ڈوبنے كے بعدپچھم كی سمت میں شفق كی لالی ختم ہونے سے اس كا وقت ختم ہو جاتا ہے ۔
عشاء كی فرض چار ركعتیں ہیں پچھم میں شفق كی سرخی ختم ہونے كے بعد اس كا وقت شروع ہوتا ہے ، اور آدھی رات تك اس كا وقت رہتا ہے، اور اضطراری صورت میں اسے طلوع فجر تك ادا كیا جاسكتا ہے ۔