موجودہ قسم دورے اور سفر كے احكامات
سبق: دوران سفر نماز او رروزہ
جب پارك میں نماز كا وقت ہو جائے اوراس آس پاس كوئی مسجد نہ ہو تو ہر نماز كے لئے بلند آواز سے اذان دینا مشروع ہے
یہاں سے اذان كی فضیلت معلوم ہوتی ہے ، اور جو سفر میں ہو اس سے شرمندہ نہ ہو ،اور نہ اس سے بے رغبت ہو ، ایك دوسری حدیث میں یوں آیا ہے "الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ، وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ" (ابن ماجه 724).”مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اور ہر خشک و تر اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہے)(حسن صحیح)
جو شخص سفر میں یا رحلہ میں ہو تو قبلہ كے سمت كو معلوم كرنے كی كوشش كرے ،اور اس سے مراد مكہ كی سمت ہے، جب وہ اسے نہ دیكھ سكے تو اس كی سمت ہی اس كے لے كافی ہے ،اور پوری باریكی كے ساتھ عین كعبہ كی طرف رخ ہونالازم نہیں ، كیونكہ یہ دشوار ہے ، اور اس سے متعلق صحابہ سے كچھ نہیں بیان ہوا ہے
آپ كے اہم ترین كاموں میں سے دوران سفر نماز پر مداومت كرنا ہے ،اوریہی بندے كے ایمان كی سچائی كی دلیل ہے
لوگ جب ٹھنڈی والے علاقے كی طرف كوچ كرتے ہیں تو وہ آگ جلاتے ہیں ،اور بسا اوقات وہ نماز كے قبلہ كے سامنے ہوتی ہے ،افضل یہ ہے كہ آگ كی طرف رخ كركے نماز نہ پڑھی جائے ،بالخصوس امام ایسا نہ كرے ،مجوسیوں كی مشابہت سے بچنے كی خاطر كیونكہ وہ آپ كی پرستش كرتے ہیں ،اور اس وجہ سے بھی كہ وہ نمازی كو غفلت میں ڈال دیتی ہے ،لیكن اگر گرمی حاصل كرنے كے لئے اس كی ضرورت ہی ہو یا جگہ بدلنے میں دشواری ہو تو كوئی حرج كی بات نہیں ہے
دو نمازوں كے درمیان جمع كرنے كا مقصود یہ ہے كہ نماز ظہر پڑھی جائے اور اسےنماز عصر كے ساتھ جمع كیا جائے ،یا نماز مغرب پڑہی جائے اور عشاء كے ساتھ اسے جمع كیا جائے، دو نمازیں كسی ایك كے وقت میں جمع كی جائیں ،(چاہے وہ جمع تقدیم ہو یا جمع تاخیر )اور یہ اس وقت ہے جبكہ دو نمازوں كے بیچ جمع كرنے كے جائز عذر پائے جائیں،
دوران سفر دو نمازوں كے جمع كے وقت صرف ایك اذان دینا كافی ہے ،پھر ہر نماز كے لئے الگ الگ اقامت كہی جائےگی ، اور رہی نماز كے بعد اذكار كی بات تو وہ دوسری نماز كے بعد پڑھی جائے گی
سفر میں بذات خود روزے كا قصد نہ كیا جائے،لیكن جس كا معمول ہو ہر ہفتہ سوموار اور جمعرات كو روزہ ركھنااور سفر اسی دن واقع ہو جائے تو اس كے لئے روزہ ركھنے كی ممانعت نہیں
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے۔ (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے۔(البخاري 1947، مسلم 1118).