موجودہ قسم وبائیں اور بیماریاں
سبق: وبا عبرت و نصیحت حاصل كرنے كا سامان ہے
آزمائش اور وبائیں یہ تقدیر الہی میں سے ہیں جولوگوں پر چاہےوہ مسلم ہوں یا كافر سب پر نازل ہوتی ہیں ،لیكن آزمائش كے وقت ایك مسلمان كی حالت اس كے غیر كی حالت جیسی نہیں ہوتی،وہ اس كے ساتھ ایسا معاملہ كرتا جس كا حكم اس كے رب نے اسے دیا ہے ،یعنی صبركرتاہے اور اس كے واقع ہونے سے پہلے اسے ہٹانے كے لئے جائز اسباب كو بروئے كار لاتا ہے ،اور اس كے نازل ہوجانے كےبعد اللہ سے اس كی شفا كے حصول كے لئے درخواست كرتا ہے۔
كمزور مخلوق كے سبب وبا كے انتشار میں اعلانیہ خیال كیا جاتا ہے ،اور دلوں میں دہشت اور ڈر پیدا كیا جاتا ہے ،جیسا كہ كروناكی بیماری میں اس كا ملاحظہ ہوا ہے ،یہ اللہ كی قدرت عظیم اور مخلوق كی كمزوری كی پہچان ہے ،وہ جتنی بھی ترقی حاصل كرلیں اور ٹكنالوجی كے مالك بن جائیں پھر بھي وہ كمزوری اور بشری لاچاری كے دائرے سے باہر نہیں نكل سكتے،اور یہ اس بات كی دلیل ہے كہ اللہ ہی مضبوط قوتوں والا ہے ،جسے زمین و آسمان كی كوئی بھی چیز عاجز و لاچار نہیں بنا سكتی
قضا اور قدر حق ہے
مسلمانوں كا یہ اعتقاد ہے كہ مخلوق كی پیدائش سے پہلے كائنات میں تمام واقع ہونے والی چیزوں كو اللہ نے مقدر كیا ہے اور لكھ دیا ہے ،اور اسی اعتقاد نے انہیں گھبراہٹ كے نزول كے وقت مطمئن و ثابت قدم بنا دیا ہے ، اس لئے وہ اللہ كے فیصلے كا شرح صدر كے ساتھ استقبال كرتے ہیں
نصیحت و عبرت حاصل كرنا
ایك مسلمان كا مصائب اور آزمائشوں سے دوچار ہونے كے چند حالات ہیں :
مصیبتوں كے آنے كے وقت كی سب سے بڑی عبادت: گریہ و زاری، فرمانبرداری ، عاجزی و انكساری كی شكل میں اللہ كی بندگی ، مدد طلب كرنے ،اور مصیبت و بلاء كے چھٹنے كی درخواست صرف ایك اللہ سے كرنے كی بندگی ، جیسا كہ اللہ كا ارشادہے ﴿ فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُم بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَٰكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (الأنعام 43)(پھر انھوں نے کیوں عاجزی نہ کی، جب ان پر ہمارا عذاب آیا اور لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے لیے خوش نما بنا دیا جو کچھ وہ کرتے تھے) سچي دعا سے آسمان كے دروازے كھول دئیے جاتے ہیں ،پردے ہٹ جاتے ہیں ، دوریاں سمیٹ دی جاتی ہیں ، رحمن كی قربت حاصل ہو جاتی ہے ، جیسا كہ اللہ كا فرمان ہے ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ ﴾. (البقرة: 186).(اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بے شک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، ) وہب بن منبہ كا قول ہے ،دعاؤں كو باہر لانے كے لئے بلائیں آتی ہیں
سب سے بڑا دھوكا اور اللہ تعالی كے مكر سے سلامتی اس میں ہے كہ ان بیماریوں اور مصیبتوں كے آنے كے وقت ہمارا یہ اعتقاد ہو كہ ہماری آخری تفكیر گناہوں او رآزمائش كے درمیان پائے جانے والے رشتے كے وجود كے بارے میں ہو ،اس كے باوجود كہ قرآنی تسلیم شدہ بات ہے اور بیشتر آیتوں میں اس كی تاكید بھی ملے گی ، اللہ كا ارشادہے ﴿ أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ ﴾ (آل عمران: 165)( اور کیا جب تمھیں ایک مصیبت پہنچی کہ یقینا اس سے دگنی تم پہنچا چکے تھے تو تم نے کہا یہ کیسے ہوا؟ کہہ دے یہ تمھاری اپنی طرف سے ہے، )ایك دوسری جگہ اللہ نے فرمایا{وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} (الشورى: 30).( اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا )
اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے
مصیبت و آزمائشوں سے درگذر كی عظیم راہیں اللہ پر حسن توكل اور كامل اعتماد ہے،آپ جلد ہی مصیبتوں سے چھٹكارے پر یقین ركھیں ،اور اپنے آس پاس كے لوگوں میں نیك فال كو پھلائیں اور بے صبری و بد فالی سے بچیں ، تو دونوں آسانیوں كی سختی تمہارے اوپر غالب نہیں ہوگی اللہ كا فرمان ہے ﴿ فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا * إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ﴾ (الشرح: 5، 6).(پس بے شک ہر مشکل کے ساتھ ایک آسانی ہے۔ [5] بے شک اسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے)
اس كائنات میں اللہ نے اپنا ایك نظام بنایا ہے كہ برائیوں كو دور كرنے كے لئے ممكن جائز مادی اسباب اختیار كریں ،اور اس كا استعمال نبیوں نے اور نیك لوگوں نے كیا ہے ،اور اس میں اللہ پر كامل توكل ہے ، اور بھر پور ادائگی بندگی ہے
پوشیدہ مخلوق ہے جس نے اہل دنیا كی نعمتوں ، لذتوں اور ان كے چین و سكون اور ان كی معیشت كو مكدر كردیا ہے ،تو كیا یہ كسی دانشمند كو زیب دیتا ہےچہ جائے كہ وہ مومن ہو كہ اس دنیا كو وہ اپنا وطن ، جائے استقرار بنالے ، اسی میں اطمینان حاصل كرے، اور اسی كے لئے باہم جنگ و جدال كرے ،اور اس كے ملبے كے لئے مقابلہ آرائی كرے
اس میں كوئی شك نہیں ہے كہ یہ جراثیم اللہ كے كائناتی نشانیوں میں سے ہے جس كے ذریعہ اللہ اپنے بندوں كو ڈراتا ہے ،اور انہیں اس كے ذریعہ عبرت پكڑنے اور نصیحت حاصل كرنے كےلئے آگے ڈھكیلتا ہے ،اور ان میں بندگی خوف كو زندہ كرتا ہے ،اللہ ارشاد فرماتاہے : ﴿ وَمَا نُرْسِلُ بِالآيَاتِ إِلا تَخْوِيفًا ﴾ (الإسراء: 59).(ور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے)
خوف كی بندگی كو زندہ كرنااللہ كی نشانیوں میں سے ہے
وقت دنیا میں ایك مسلمان كا راس مال ہے ،وہ مال سے زیادہ عمدہ ، اور ہر قیمت سے زیادہ منہگاہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے كہ اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «نعمتان مغبونٌ فيهما كثيرٌ من الناس: الصحة والفراغ». (البخاري 6412).”دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے، صحت اور فراغت۔“