موجودہ قسم مالی لین دین
سبق: كرایہ پر دینا یا اجرت پر ركھنا
كسی عمل پر معاہدہ كرنا ، یا معلوم عوض دے كر مباح معلوم منفعت جو عین معلوم كے قبیل سے ہو یا كسی كے ذمہ میں ہو معلوم مدت تك كے لئے معاہدہ كرنا۔
اسلامی قانون میں كرایہ داری كا حكم
كرایہ داری كے جواز كی چند دلیلیں
عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : "اسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللهِ ﷺ وَأبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ، هَادِياً خِرِّيتاً، وَهُوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاثِ لَيَالٍ، فأتاهما بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلاثٍ" (البخاري 2264)(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کر لی تھی۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا۔ ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواروں کے ساتھ غار ثور پر آ جائے، تو وہ تیسری كی صبح كو ان دو انٹنیوں كو لیكر آپ دونوں كے پاس حاضر ہوا)۔
كرایہ داری كے مشروع ہونے كی حكمت
اجارہ (كرایہ داری) كی قسمیں
مزدور كی قسمیں
نجی یا خاص مزدور
ایك سے زائد لوگ جس فائدہ میں مشترك ہوں ؛ جیسے لوہار ، پلمبر، رنگریز ،ٹیلر(درزی) جب یہ اپنے خاص حساب پر كام كررہے ہوں اور جو بھی ان سے كام كرنے كا مطالبہ كرے اس كے كام كو پكڑرہے ہوں ، تو ایسی صورت میں جس نے انہیں اجرت پر ركھا ہے اسےدوسروں كے كام سے روكنے كا حق نہیں ، اور صرف عمل كے مقابل ہی وہ اجرت كا مستحق ہوگا ۔
كرایہ داری كے معاہدہ كے اركان
دو اگریمنٹ كرنے والے
یعنی ایجاب و قبول، وہ تصرف جو معاہدہ كے قانونی یا روایتی شكل میں قائم ہونے كی عبارت كو ثابت كرتا ہے ۔
منفعت
یہی وہ عوض ہے جو كہ كسی عینی چیز یا آدمی كے مقابل دیا جاتا ہے ، اور یہی وہ بیع كے عقد میں قیمت كے مقابلے میں ہوتا ہے ،
اجارہ (كرایہ داری ) كے صحیح ہونے كی شرطیں
اجرت كے واجب ہونے كا وقت
اور اگر وہ دونوں جلدی یا تاخیر یا قسط وار پر راضی ہو جائیں تو یہ جائز ہے ، اور مزدور اپنی مزدوری كا اس وقت حقدار ہو جاتا ہے جب وہ ٹھیك سے اپنا كام مكمل كرلے ۔
اگر ایجار پر لی گئی جگہ كو كرایہ پر دی گئی ہو تو منفعت پورا ہونے كے بعد وہ اجرت كا حقدار ہوگآ ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت كرتےہیں كہ آپ نے فرمایا: «قالَ اللهُ: ثَلاثَةٌ أنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ القِيَامَةِ: رَجُلٌ أعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرّاً فَأكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أجِيراً فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِ أجْرَهُ». (البخاري 2227)( اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین طرح کے لوگ ایسے ہوں گے جن کا قیامت کے دن میں مدعی بنوں گا، ایک وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور وہ توڑ دیا، وہ شخص جس نے کسی آزاد انسان کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور وہ شخص جس نے کوئی مزدور اجرت پر رکھا، اس سے پوری طرح کام لیا، لیکن اس کی مزدوری نہیں دی)۔
كرایہ كا معاہدہ ختم ہونے كی حالتیں
كرایہ داری دو فریقوں میں سےكسی ایك كی موت كی وجہ سے كالعدم نہیں ہوگی ، اور ایسے ہی ایجار میں لی گئی چیز كے بیچ دینے سے ایجار ختم نہیں ہوگا ، لیكن اگر كسی كو خاص عمل كے لئے اجرت پر ركھا گیا تھا ، پھر وہ مر جائے تو اجارہ كالعدم ہو جائے گا ، اور جب اجارہ كی مدت ختم ہو جائے گی تو ایجار پر لینے والا اپنا ہاتھ اٹھالے گا ، اور اگر ایجار میں دی گئی چیز قابل نقل ہے تو اسے ایجار دینے والے كیے حوالے كردیا جائے گا ۔