موجودہ قسم مالی لین دین
سبق: ادھار لین دین
ادھار لین دین كا مفہوم
عاریہ (ادھار لین دین ) كا حكم
عاریہ (ادھار لین دین ) كی مشروعیت كی حكمت
اللہ كی رحمت میں سے ہے كہ اس نے ادھار لین دین كو ادھار لینے والے كی ضرورت كی تكمیل كے لئے جائز بنایا ، اور ساتھ ہی ساتھ ادھار دینےوالے كو اجر سے نوازا ، كیونكہ اس نے اپنے بھائی كے لئے سامان باقی رہتے ہوئے منافع پنچایا ،
اللہ تعالی نے فرمایا : {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ} [المائدة: 2].(اور نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو)۔
انس بن مالك رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں مدینے پر (دشمن کے حملے کا) خوف تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے ایک گھوڑا جس کا نام مندوب تھا مستعار لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے (صحابہ بھی ساتھ تھے) پھر جب واپس ہوئے تو فرمایا، ہمیں تو کوئی خطرہ کی چیز نظر نہ آئی، البتہ یہ گھوڑا سمندر کی طرح (تیز دوڑتا) پایا)۔
عاریہ كے صحیح ہونے كی شرط
عاریہ كے اركان
ادھار لینے والے پر عاریہ كی حفاظت كرنا ، اس كا خیال ركھنا ، صحیح ڈھنگ سے اس كا استعمال كرنا اور صحیح سالم انداز میں مالك كو اسے واپس كرنا واجب ہے ، اور اگر ادھار لینےوالے كے ہاتھ سے وہ استعمال كے بغیر ہی ضائع ہو گیا تو وہ اس كا ضامن ہے چاہے اس نے كوتاہی كی ہو یا نہ كی ہو ، رہی بات جب وہ استعمال سے ضائع ہو جائے جس میں اسے اجازت تھی تو اس كی كوئی ذمہ داری نہیں ، سوائے اس كے كہ ادھار لینے والے نے حد سے تجاوز كی ہو یا اس نے كوتاہی كی ہو تو پھر وہ ذمہ دار ہو گا۔
ادھار لینے والے پر واجب ہے كہ وہ اپنی ضرورت پوری كرلینے كے بعد ادھار لئے گئے سامان كو واپس كردے ، اور اسے ایسے ہی صحیح سالم واپس كرے جیسے اس نے لیا تھا ، اس كے لئے اس سامان كا روكنا یا اس كا انكار كرنا جائز نہیں ، اگر اس نے ایسا كیا تو وہ خائن اور گنہ گار ہے ،
ادھار دینے والا جب چاہےعاریہ كے واپسی كا مطالبہ كرسكتا ہے جب تك كہ ادھار لینے كے نقصان كا وہ سبب نہ بنے ، بصورت دیگر اگر اس كا واپس لینا ادھار لینے والے كے ضرر كا سبب بنے تو نقصان ختم ہونے تك اسے قبضہ میں لینے میں تاخیر كرے جیسے كہ اس نے ادھار پر زمین دی پھر ادھار لینے والے نے اس میں زراعت كی ، تو زمین ادھار دینے والا اس زمین كو واپس لینے كا مطالبہ ادھار لینے والے سے اس وقت تك نہیں كرسكتا جب تك كہ وہ اس كی فصل كو كاٹ نہ لے ۔
اللہ تعالی نے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا} [النساء: 58].( اللہ تعالیٰ تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچاؤ! اور جب لوگوں کا فیصلہ کرو تو عدل وانصاف سے فیصلہ کرو! یقیناً وه بہتر چیز ہے جس کی نصیحت تمہیں اللہ تعالیٰ کر رہا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ سنتا ہے، دیکھتا ہے )۔