تعلیم كو فالو اپ كریں

اب تك آپ نے انڑی كے لئے رجسٹریشن نہیں كیا
اپنی ترقی كے فالواپ كے لئے اور پوائنٹس اكٹھا كرنے كے لئے ،اور مسابقے میں شركت كے لئے منصہ تاء میں فورا رجسٹریشن كریں ،رجسٹرد ہونے كے بعد جن موضوعات كی آپ تعلیم حاصل كررہے ہیں آپ اس كی الكڑانك سرٹیفیكیٹ حاصل كریں گے

موجودہ قسم زكاۃ

سبق: زكاۃ ؛زكاۃ كی حقیقت اور اسے كے مقاصد

زكاۃ اركان اسلام میں سے تیسرا ركن ہے ، آپ اس درس میں زكاۃ كی حقیقت ، اس كے مقاصد ، اور اس كےشریعت بنائے جانے كی حكمت كے متعلق معلومات حاصل كریں گے۔

  • زكاۃ كی حقیقت كی معرفت ۔
  • زكاۃ كی تشریع كے مقاصد ۔
  • زكاۃ كے حقداروں كے اصناف كی معرفت۔

زكاۃ

زكاۃ اسلام كے اركان میں سے تیسرا ركن ہے ،یہ مالی واجب ہے جسے اللہ نے مالداروں پر فرض كیا ہے ، تاكہ حقداروں میں سے غریب و محتاج وغیرہ كوان كی پریشانیوں كو دور كرنے كےلئے ایك محدود حصہ انہیں دیا جائے ،

زكاۃ كے مقاصد

1-مال كی محبت انسانی جبلت ہے ،جو انسان كو اس كی حفاظت كرنے اور اسے مضبوطی سے پكڑنے پر حرص كے لئے آمادہ كرتی ہے ،شریعت نے بخیلی و كنجوسی كی رذالت سے نفس كو پاك كرنے كے لئے زكاۃ كی ادائیگی كو واجب كیا ہے ، اور دنیا كی محبت اور اس كے ٹكڑے كو جكڑنے كی بیماری كا علاج كیا ہے ، اللہ تعالی نے فرمایا : (خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا) (التوبة: 103).( آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں)

2-زكاۃ كی ادائیگی سے باہمی میل و جول اور الفت و محبت قائم ہوتی ہے ، كیونكہ نفس انسانی اس سے اچھے كے لئے پیداكی گئی ہے ، اور اسی كے ساتھ اسلامی معاشرے كے افراد آپس میں جڑ كر محبت كرنے والے بن كر جیتےہیں جیسے مضبوط عمارت كہ اس كا بعض حصہ بعض كو مضبوط كرتا ہے ،اور اس سے چوری كے ڈكیتی كے اور غبن كے واقعات كم رونما ہوتےہیں ۔

3-زكاۃ سے عبودیت كا معنی اور مطلق عاجزی اور رب العالمین كے لئے كامل خودسپردگی حاصل ہوتی ہے ،اور جس وقت ایك مالدار اپنے مال سے زكاۃ نكالتا ہے توہ اللہ كی شریعت كو عملی جامہ پہناتا ہے ،اور اس كے دئیے گئے حكم كو نافذ كرتا ہے ،اور اس كے نكالنے سے اللہ عزوجل كے اس عطا كردہ نعمت پر شكرانہ ہوتا ہے ،اور اللہ اسے اس شكرگذاری پر بدلہ سے نوازتا ہے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا : (لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ) (إبراهيم: 7).( بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا)

4- اور زكاۃ كی ادائیگی سے معاشرتی تحفظ كا مفہوم ادا ہو جاتا ہے ،اور معاشرے كے طبقات كے درمیان معیار توازن قائم ہوتاہے ،زكاۃ كو نكال كر حقداروں تك پہونچانے میں مالی ثروت معاشرے كے محدود طبقوں كے ہاتھوں میں ڈھیر سارا نہیں بچتا ہے ، اور نہ ہی ان كے پاس ذخیرہ اندوزی ہو پاتی ہے ، اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : (كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ) (الحشر: 7).( تاکہ تمہارے دولت مندوں کے ہاتھ میں ہی یہ مال گردش کرتا نہ ره جائے)

زكاۃ كنہیں دی جائے گی ؟

اسلام نے ان مصارف زكاۃ كی تحدید كی ہے جن میں زكاۃ تقسیم كی جائے گی، اگر كوئی مسلمان ان میں سے صرف ایك ہی كو دےدے تو اس كے لئے جائزہے یا ایك سے زائد صنف میں تقسیم كردے تو بھی جائزہے ،یا اسے ان تنظیموں اور خیراتی اداروں كو دے دے جو مسلمانوں میں سے زكاۃ كے مستحقین لوگوں میں تقسیم كرتے ہیں ،اور بہتر یہ ہے كہ زكاۃ دینے والے كی ملك ہی میں اسے تقیسم كیا جائے۔

زكاۃ كے مصارف (زكاۃ كے حقداروں كی قسمیں )

١
فقراء: فقیر كی جمع ہے ،ایسا شخص جس كے پاس كچھ نہ ہو ،یا اتنا تھوڑا ہو كہ آدھے سال كے لئے بھی كافی نہ ہو ۔
٢
مساكین :مسكین كی جمع ہے ، ایسا شخص جس كے پاس آدھے سال بھر كا یا اس سے كچھ زیادہ خرچ ہو ۔
٣
اس پر كام كرنے والے:یہ اس میں كام كرنے والے نوكر لوگ ہیں ، یا زكاۃ جمع كرنے اور اسے تقسیم كرنے كےلئے امام ان سے مدد لیتا ہے ۔
٤
ان كے تالیف قلب كے لئے :یہ ان كی قوم كے فرمانبردار سردار ہیں جن كے اسلام لانے كی امید كی جاتی ہے ،یا ان كے ہم مثل كے اسلام لانے كی ، یا ان كی ایمانی قوت كے لئے ،یا مسلمانوں كی طرف سے ان كے دفاع كی وجہ سے ، یا ان كے شر كے اندیشے كی وجہ سے ۔
٥
گردن آزاد كرانے كے لئے:اس سے مراد مكاتب غلام ہے ، یعنی وہ غلام جنہوں نے اپنے مالك آقاؤں سے یہ لكھا پڑھی كر ركھی ہےكہ جب وہ ان كے مال كو ادا كر دیں گے تو وہ آزاد ہو جائیں گے ، اور اس سے گردن خریدنا جائز ہے ،یا اس كے ذریعہ مسلمان قیدیوں كو آزاد كرانا۔
٦
قرض دار :یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی ذات كی خاطر قرض لی _شرط یہ ہے كہ وہ قرض جائز كا م كے لئے لیا ہو_ لیكن اس كی ادائیگی سے عاجز ہے ،یا وہ لوگ جنہوں نے دو فریق كے درمیا ن صلح كی خاطر قرض لی ہو ۔
٧
اللہ كی راہ میں :اس سے مراد وہ رضاكار غازی ہیں جو اسلام كی دفاع كے لئے جہاد كرتے ہیں ،نہ تو ان كا كوئی معاوضہ ہے اور نہ ہی مسلمانوں كے مال میں ان كی كوئی تنخواہ ہے ۔
٨
مسافر: وہ مسافر جس كی زاد راہ ختم ہو جائےاور وہ دوسرے شہر میں ہو ،تو اسے اتنا دیا جائےگا جس سے وہ اپنے مقصد تك پہونچ جائے ، شرط یہ كہ اس كا وہ سفر حرام كام كے لئے نہ ہو۔

اللہ تعالی نے واجب مصارف زكاۃ كو بیان كرتے ہوئے فرمایا: (إنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ) (التوبة : 60 ).(صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم وحکمت واﻻ ہے)

كامیابی سے آپ نے درس مكمل كیا


امتحان شروع كریں