موجودہ قسم حج
سبق: حج كا طریقہ
حج كی تین قسمیں ہیں ، اور وہ یہ ہیں : تمتع ، قران ، افراد ، اور حاجی كے لئے ہے كہ ان تین حج كی قسموں میں سے كسی ایك كا انتخاب كرے ، تاكہ اسی كے ساتھ اپنا حج ادا كرے ۔
تمتع
قران
افراد
مسلمان پر یہ ضروری ہے كہ حج كی ادائیگی وہ اسی كیفیت پر كرے جس پر ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے كیا ہے، اور اسی كا اپنے صحابہ كرام رضوان اللہ علیہم كو حكم دیا ہے ،جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا : رأيت النبي ﷺ يرمي على راحلته يوم النحر، ويقول: «لتأخذوا مناسككم، فإني لا أدري لعلي لا أحج بعد حجتي هذه» (مسلم 1297).(میں نے دیکھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہ وہ جمرہ عقبہ کو کنکر مارتے تھے اپنی اونٹنی پر سے قربانی کے دن اور فرماتے تھے: ”سیکھ لو مجھ سے مناسک اپنے حج کے اس لیے کہ میں نہیں جانتا کہ اس کے بعد حج کروں)
حاجی جب میقات پر پہونچے اور حج كا احرام باندھنا چاہے تو اس كےلئےمشروع ہے كہ وہ اپنے سارے كپروں كو اتار دے ،اور غسل كرے ، اپنی داڑھی و سر میں خوشبو لگائے ، اور لباس احرم زیت تن كرے ،اور اگر فرض نماز كا وقت ہےتو اسے ادا كرے ، اور اگر دو ركعت پڑھنا چاہتا ہے تو تحیۃالوضو كی نیت سے دوركعت پڑھ لے ۔
جب نماز سے فارغ ہوجائے تو احرام باندھے پھر حج كی جس قسم میں وہ داخل ہونا چاہتا ہے دل سے اس كی نیت كرے پھر :
پھر تلبیہ كثرت سے پڑھے ، اور وہ یہ ہے : "لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك" (حاضر ہوں ، اے اللہ !میں حاضر ہوں،حاضر ہوں ، تو لا شریك ہے ، میں حاضر ہوں ، بیشك ہر قسم كی تعریف تیرے لئے ،اور تما م نعمتیں تیری طرف سےہیں ، اوربادشاہت بھی تیری ہی ہے ، تو لا شریك ہے ، میں حاضر ہوں ) مرد حضرات تلبیہ بلند آواز سے پكاریں گے ، اور عورت اس قدر كہے گی كہ اس كے بغل میں بیٹھی خاتون سن سكے ، اور مردوں تك آواز نہ جائے اور وہ اپنے حالت احرام میں احرام كی تمام ممنوع چیزوں سے دور رہے گآ
حاجی كے لئے مستحب ہے كہ مكہ میں داخلے كے وقت غسل كرے ،اور اگر وہ حج تمتع كی نیت كیا ہے تو مسجد حرام جاكر عمرہ ادا كرے ،اور حج قران و افراد كرنے والوں كے لئے طواف قدوم كرنا مستحب ہے ۔
جب وہ مسجد حرام میں داخل ہو تو پہلے اپنا داہنا پیر بڑھائے ، اور مسجد میں داخل ہونے والی دعا پڑھے ، اور جب كعبہ كے پاس پہنچ جائے تو طواف شروع كرنے سے پہلے تلبیہ پكارنا بند كردے ، اور مرد كے لئے یہ ہے كہ اپنی چادر كو اپنے داہنے كندھے كے نیچے سے اپنے بائیں كندھے كے اوپر ڈال لے ،
پھر حجر اسود كی طرف بڑھے اور تاكہ طواف شروع كرے ،داہنے ہاتھ سے حجر اسود كو چھوئے اور اسے بوسہ دے ،اور اگر یہ میسر نہ ہو تو حجر اسود كی طرف چہرہ كرے اور ہاتھ سے اس كی طرف اشارہ كردے،اور بیت اللہ كو اپنے بائیں جانب كردے ،اور سات چكر طواف كرے ،اور ابتدائی تین چكروں میں رمل كرے یعنی چھوٹے چھوٹے قدم ركھ كر تیز چلے ۔
جب ركن یمانی كے پاس پہونچے تو اس پر چومے بغیر ہاتھ پھیرے ، اور اگر یہ نہ ہو سكے تو اس كی طرف ہاتھ سے اشارہ نہ كرے،اور ركن یمانی اور حجر اسود كے درمیان یہ پڑھے : ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾. (اے اللہ تو ہمیں دنیا وآخرت كی بھلائی سے نوازدے ، اور ہمیں جہنم كے عذاب سے بچالے )
اور جب طواف كے سات چكر مكمل كرلے توچادر كو دونوں كندھوں پر ڈال لے ، پھر مقام ابراہیم كے پہیچھے چلا جائے اگر آسانی ہوتو ورنہ مسجد میں كسی بھی جگہ دو ركعت نماز پڑھے ،اور پہلی ركعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے كےبعد ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ پڑھے اور دوسری ركعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے كے بعد ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ پڑھے۔
پھر اس كے بعد مسعی ( سعی كی جگہ) كی طرف نكل جائے اور جب صفا پہاڑی كے قریب پہونچے تو اللہ كا یہ فرمان پڑھے : ﴿ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ﴾ (صفا اورمروہ اللہ ك شعائر میں سے ہیں ) اور یہ كہے ، میں وہیں سے شروع كررہا ہوں جہاں سے اللہ نے شروع كیا ہے ،
حاجی جب سعی مكمل كرلے تو یا سر منڈوا لے یا بال چھوٹے كرالے ،اگر وہ حج تمتع كرنے والا ہو ،اور مرد كے حق میں حلق كروانا افضل ہے،اور اگر اس نے اس میں بال چھوٹا كرایا اورحلق كو حج كے لئے چھوڑ دیا تو یہ اچھا ہے ،اور عورت اپنے تمام بالوں كو اكٹھا كرے گی اور آخر سے انگلی كے ایك پور كے برابر كاٹ دے گي ، اور جب حج تمتع كرنے والے نے یہ سارے كام كر لیئے تو اس كا عمرہ مكمل ہوگیا اور احرام سے جتنی چیزیں حرام ہوئی تھیں وہ سب حلال ہوگئیں ،اور اگر حج افراد یا حج قران كرنے والا ہے تو سعی كرنے كے بعد نہ حلق كرائے گا اور نہ ہی بال چھوٹے كرائے گا ،بلكہ احرام ہی كی حالت میں باقی رہے گا
یوم ترویہ وہی ذی الحجہ كا آٹھواں دن ہے ، جس میں حج كے اعمال شروع ہوتے ہیں ،تو جو حج تمتع كرنے والےہیں وہ جس جگہ مكہ میں ہیں وہیں سے اس دن كے چاشت كے وقت دوبارہ حج كا احرام باندھیں گے ،پہلے غسل كریں ، خوشبو لگائیں، اور لباس احرام زیب تن كریں ، اور نماز پڑھیں، پھر حج كی نیت كریں اور تلبیہ پكاریں اور اس طرح كہیں : لبيك اللهم حجاً،لیكن حج افراد و قران كرنے ولے اپنے پرانے احرام ہی میں رہیں گے ، پھر حاجی ظہر سے پہلے منی كے لئے روانہ ہو جائے گا ،اور وہیں ٹھہرے گا اور وہیں رات گذارے گا ، اور وہیں ظہر ، عصر اور مغرب و عشاء كی نمازیں پڑھے گا ،بغیر جمع كئے چآر ركعت والی نمازوں میں قصركرے گا ، اور وہیں نو تاریخ والی فجر كی نماز بھی پڑھے گا،اور كثرت سے تلبیہ ، ذكر اور قرآن كی تلاوت كرے گا
جب عرفہ كے دن یعنی ذی الحجہ كے نوواں دن كا سورج طلوع ہو جائے تو حاجی منی سے عرفات كی طرف پورے اطمنان وسكون كے سا تھ اللہ كا ذكر كرتے اور تلبیہ پكارتے ہوئے روانہ ہو جائے ،اگر اسے آسانی ہوتو زوال كے وقت نمرہ پہونچے ، ورنہ میدان عرفات میں داخل ہو جائے اس میں كوئی حرج نہیں ہے،اور جب سورج مائل ہو جائے تو ظہر اور عصر كی نماز قصر اور جمع كے ساتھ ادا كرے ،اور جمع تقدیم كرے ، اسے كے بعد فارغ ہوكر ذكر اور دعا اور اللہ سے گریہ و زاری میں لگ جائے ،اور اسے جو بسند ہو اپنے دونوں ہاتھوں كو اٹھاكر قبلہ رخ ہو كراس كی دعا كرے ،
اور جب حاجی میدان مزدلفہ پہنچ جائے تو پہلے وہ مغرب و عشاء كی نماز پڑھے ، دونوں نمازوں كو جمع كركے قصر كے ساتھ پڑھے ، ایك اذان اور دو اقامتوں كے ساتھ ، اور پوری رات مزدلفہ میں گذارے ،اور جب فجر كا وقت ہو جائے تو فجر كی نماز وہیں پڑھے ،اور قبلہ رخ ہوكر ہاتھ اٹھا كر اللہ كے ذكر و دعا میں لگا رہے یہاں تك كہ صبح خوب روشن ہو جائے۔
جب ذی الحجہ كی دس تاریخ كی صبح خوب روشن ہو جائے تو حاجی سورج نكلنے سے پہلے منی كی طرف روانہ ہو جائے ، اور اپنے چلنے كے دوران كنكریاں چن لے ، سات كنكریا جو چنے كے دانےسے تھوڑے بڑے ہوں ،اور جب جمرہ عقبہ پہنچ جائے تو مكہ سے قریب جمرہ كو سات كنكریاں مارے ، اور ہر كنكری كے ساتھ اللہ اكبر پكارے ،اور جب اس سے فارغ ہو جائے تو قربانی كا جانور ذبح كرے ،پھر اپنے سر كو منڈوادے یا پھر بال چھوٹے كرا لے،اور عورت اپنے بال كے اخیر سے انگلی پور كے برابر كاٹ لے ،اور حاجی كے لئے خوشبو لگانا مستحب ہے ،پھر اس كے بعد وہ مكہ جائے اور طواف افاضہ كرے ،اور یہ حج كے اركان میں سے ہے ،اور سعی كرے ، پھر اس كے بعد منی واپس آئے گیارہ كی راتیں منی میں گذارے ۔
ایام تشریق میں حاجی كے لئے واجب ہے كہ وہ گیارہ و بارہ كی راتیں منی میں گذارے ، اور اگر تاخیر كرنے كا ارادہ ہو تو تیرہ كی رات بھی منی میں گذارے،اور تینوں جمرات كو كنكریاں مارے
جمرات كو كنكریاں مارنے كا طریقہ
اور جب اپنے شہر جانےكے لئے مكہ سے نكلنے كا ارادہ كرے تو طواف وداع كئے بغیر نہ نكلے ،اور طواف وداع كو اللہ كے گھر كا آخری عہد قرار دے جب سفر كے لئے كوچ كا ارادہ كرے ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے فرماتے ہیں كہ اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا ينفرن أحد حتى يكون آخر عهده بالبيت». (مسلم 1327).(کوئی شخص کوچ نہ کرے جب تک چلتے وقت طواف نہ کر لے بیت اللہ کا ) اور طواف وداع حائضہ عورت كے لئے معاف ہے ۔